غزل
तिरे 'इश्क़ में आगे सौदा हुआ था
तिरे 'इश्क़ में आगे सौदा हुआ था
یہ غزل ایک محبت کے دھوکے اور جدائی کے درد پر ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب کے عشق میں ہونے والے فریب کا دکھ بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبوب کے رویے نے اس کی زندگی میں ایک طرح کا تماشا یا منظر بنا دیا ہے۔
نغمہ سنیں
1
तिरे 'इश्क़ में आगे सौदा हुआ था
पर इतना भी ज़ालिम न रुस्वा हुआ था
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
تیرے عشق میں آگے سودا ہوا تھا، پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہارے پیار میں پہلے ہی ایک طرح کا لین دین یا سمجھوتہ ہو چکا تھا، مگر تم اتنا ظالم نہیں بنے کہ اسے بھی رسوا کر دو۔
2
ख़िज़ाँ इल्तिफ़ात उस पे करती बजा थी
ये ग़ुंचा चमन में अभी वा हुआ था
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی
یہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
خزاں کے لطف اس پر برساتی تھی؛ یہ کلی ابھی باغ میں کھلی ہی تھی۔
3
कहाँ था तो इस तौर आने से मेरे
गली में तिरी कल तमाशा हुआ था
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے
گلی میں تری کل تماشا ہوا تھا
کہاں تھے آپ، کہ اس طرح آنے سے میری گلی میں آپ کا تماشا ہوا تھا۔
4
गई होती सर आबलों के पे हुई ख़ैर
बड़ा क़ज़िया ख़ारों से बरपा हुआ था
گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیر
بڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا
اگر آبلوؤں کی وجہ نہ ہوتی تو بات حل ہو گئی ہوتی۔ خارشوں سے ایک بڑا جھگڑا پک رہا تھا۔
5
गरेबाँ से तब हाथ उठाया था मैं ने
मिरी और दामान-ए-सहरा हुआ था
گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نے
مری اور دامان صحرا ہوا تھا
جب میں نے غریبی سے ہاتھ اٹھایا، تو میری زندگی اور صحرا کا پردہ گزر چکا تھا۔
6
ज़हे-तालेअ' ऐ 'मीर' उन ने ये पूछा
कहाँ था तू अब तक तुझे क्या हुआ था
زہے طالع اے میرؔ ان نے یہ پوچھا
کہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا
زہ تا لے اے میر، انہوں نے یہ پوچھا کہ تم اب تک کہاں تھے اور تمہیں کیا ہوا تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
