غزل
सोज़िश दिल से मुफ़्त गलते हैं
सोज़िश दिल से मुफ़्त गलते हैं
یہ غزل دل کے درد اور جدائی کے گہرے احساسات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر عشق کے درد اور یادوں کو ایسے داغ چِھٹا ہوا बताते ہیں جو دل سے پگھلتے ہیں۔ یہ اشعار جدائی کے مسلسل غم کو ظاہر کرتے ہیں، جو آنکھوں میں دریا کی طرح تیرتا ہے۔ آخر میں، یہ کلام صبر کا پیغام دیتا ہے، کہ ہر مشکل کے بعد ایک سکون اور نئی شروعات بھی آتی ہے۔
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
सोज़िश दिल से मुफ़्त गलते हैं
दाग़ जैसे चराग़ जलते हैं
سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
داغ جیسے چراغ جلتے ہیں
سوزش دل سے مُفت گلتے ہیں، داغ جیسے چراغ جلتے ہیں۔
2
इस तरह दिल गया कि अब तक हम
बैठे रोते हैं हाथ मिलते हैं
اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم
بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں
اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں
3
भरी आती हैं आज यूँ आँखें
जैसे दरिया कहीं उबलते हैं
بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں
جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں
آج میری آنکھیں ایسے بھر آ رہی ہیں، جیسے کوئی دریا کہیں ابل رہا ہو۔
4
दम-ए-आख़िर है बैठ जा मत जा
सब्र कर टक कि हम भी चलते हैं
دم آخر ہے بیٹھ جا مت جا
صبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں
یہ دمِ آخری ہے، بیٹھ جا مت جا۔ صبر کر، کہ ہم بھی چلتے ہیں۔
5
तेरे बे-ख़ुद जो हैं सो क्या चेतें
ऐसे डूबे कहीं उछलते हैं
تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں
ایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں
شاعر کہتا ہے کہ تمہارے بے خود جذبات کو سنبھالنے سے کیا فائدہ، جیسے وہ جو گہرے ڈوب کر پھر اچھلتے ہیں۔
6
फ़ित्ना दर-सर बुतान-ए-हश्र-ए-ख़िराम
हाए रे किस ठसक से चलते हैं
فتنہ در سر بتان حشر خرام
ہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں
فتنہ در سر بُتانِ حشرِ خِرام، اے کس ٹھسک سے چلتے ہیں
7
नज़र उठती नहीं कि जब ख़ूबाँ
सोते से उठ के आँख मलते हैं
نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں
سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں
نظر نہیں اٹھتی کہ جب خُوباں سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں۔
8
इस सर-ए-ज़ुल्फ़ का ख़याल न छोड़
साँप के सर ही याँ कुचलते हैं
اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ
سانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں
اس سرِ زُلف کا خیال نہ چھوڑ، کیونکہ سانپ صرف سر ہی کچلتے ہیں۔
9
थे जो अग़्यार संग सीने के
अब तो कुछ हम को देख टलते हैं
تھے جو اغیار سنگ سینے کے
اب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں
وہ جو گیارہ کے ساتھ سینے میں تھا، اب ہمیں دیکھ کر منہ موڑ لیتا ہے۔
10
शम'-रू मोम के बने हैं मगर
गर्म टक मलिए तो पिघलते हैं
شمع رو موم کے بنے ہیں مگر
گرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں
شمع رو موم کے بنے ہیں مگر گرم ہاتھ میں رکھنے پر پگھل جاتے ہیں۔
11
'मीर'-साहिब को देखिए जो बने
अब बहुत घर से कम निकलते हैं
میرؔ صاحب کو دیکھیے جو بنے
اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں
میر صاحب کو دیکھیے جو بنے
اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
