غزل
रंज खींचे थे दाग़ खाए थे
रंज खींचे थे दाग़ खाए थे
یہ غزل عشق کے گہرے اور تکلیف دہ تجربات کا بیان ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کیسے عشق نے نہ صرف جذباتی زخم دیے، بلکہ اس کی عزت اور آنکھوں میں بھی آنسو لائے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے اپنے دل کے تمام زخم اور دکھ محبوب کے سامنے دکھائے تھے، لیکن شاید محبوب ان جذبات کو سمجھ نہ پایا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रंज खींचे थे दाग़ खाए थे
दिल ने सदमे बड़े उठाए थे
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے، دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے۔
2
पास-ए-नामूस-ए-इश्क़ था वर्ना
कितने आँसू पलक तक आए थे
اگر ناموسِ عشق نہ ہوتا، تو کتنے آنسو پلک تک آ چکے ہوتے۔
3
वही समझा न वर्ना हम ने तो
ज़ख़्म छाती के सब दिखाए थे
اگر تم سمجھا نہیں تو جان لو کہ ہم نے تو سینے کے سارے زخم دکھائے تھے۔
4
अब जहाँ आफ़्ताब में हम हैं
याँ कभू सर्व ओ गुल के साए थे
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں، وہاں کبھی گل کے سائے تھے।
5
कुछ न समझे कि तुझ से यारों ने
किस तवक़्क़ो पे दिल लगाए थे
وہ نہیں سمجھتے کہ دوستوں نے تجھ سے کس وعدے پر دل لگایا تھا۔
6
फ़ुर्सत-ए-ज़िंदगी से मत पूछो
साँस भी हम न लेने पाए थे
فُرستِ زندگی سے مت پوچھو، سانس بھی ہم نہ لے پائے تھے۔
7
'मीर' साहब रुला गए सब को
कल वे तशरीफ़ याँ भी लाए थे
میر صاحب نے سب کو رلا دیا، کل وہ یہاں بھی تشریف لائے تھے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
