غزل

रंज खींचे थे दाग़ खाए थे

रंज खींचे थे दाग़ खाए थे
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق کے گہرے اور تکلیف دہ تجربات کا بیان ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کیسے عشق نے نہ صرف جذباتی زخم دیے، بلکہ اس کی عزت اور آنکھوں میں بھی آنسو لائے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے اپنے دل کے تمام زخم اور دکھ محبوب کے سامنے دکھائے تھے، لیکن شاید محبوب ان جذبات کو سمجھ نہ پایا۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
रंज खींचे थे दाग़ खाए थे दिल ने सदमे बड़े उठाए थे
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے، دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے۔
2
पास-ए-नामूस-ए-इश्क़ था वर्ना कितने आँसू पलक तक आए थे
پاس ناموس عشق تھا ورنہ کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
اگر ناموسِ عشق نہ ہوتا، تو کتنے آنسو پلک تک آ چکے ہوتے۔
3
वही समझा न वर्ना हम ने तो ज़ख़्म छाती के सब दिखाए थे
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو زخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اگر تم سمجھا نہیں تو جان لو کہ ہم نے تو سینے کے سارے زخم دکھائے تھے۔
4
अब जहाँ आफ़्ताब में हम हैं याँ कभू सर्व ओ गुल के साए थे
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں یاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں، وہاں کبھی گل کے سائے تھے।
5
कुछ न समझे कि तुझ से यारों ने किस तवक़्क़ो पे दिल लगाए थे
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے کس توقع پہ دل لگائے تھے
وہ نہیں سمجھتے کہ دوستوں نے تجھ سے کس وعدے پر دل لگایا تھا۔
6
फ़ुर्सत-ए-ज़िंदगी से मत पूछो साँस भी हम न लेने पाए थे
فرصت زندگی سے مت پوچھو سانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
فُرستِ زندگی سے مت پوچھو، سانس بھی ہم نہ لے پائے تھے۔
7
'मीर' साहब रुला गए सब को कल वे तशरीफ़ याँ भी लाए थे
میرؔ صاحب رلا گئے سب کو کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
میر صاحب نے سب کو رلا دیا، کل وہ یہاں بھی تشریف لائے تھے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.