غزل
नक़्श बैठे है कहाँ ख़्वाहिश-ए-आज़ादी का
नक़्श बैठे है कहाँ ख़्वाहिश-ए-आज़ादी का
یہ غزل آزادی کی چاہت اور اس کی عدم موجودگی پر ایک گہرا غور و فکر ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ آزادی کی خواہش کہاں بسی ہے، جب انسان ننگے ہاتھوں سے آپ کی رحمت اور سِیاست کا منتظر ہے۔ یہ غزل بتاتی ہے کہ زندگی میں رونق صرف اسی کی ہوتی ہے جس کے جیتے جی شہر میں رونق رہتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
नक़्श बैठे है कहाँ ख़्वाहिश-ए-आज़ादी का
नंग है नाम रिहाई तिरी सय्यादी का
نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا
ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا
آزادی کی خواہش کہاں بس گئی ہے؟ تمہارے اس حکم سے رہائی کا نام تو خالی ہے۔
2
दाद दे वर्ना अभी जान पे खेलूँ हूँ मैं
दिल जलाना नहीं देखा किसी फ़रियादी का
داد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میں
دل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا
داد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میں، دل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا۔ (مطلب: یا تو میری مان پوری کرو، ورنہ میں تمہاری جان سے کھیلوں گا؛ میں نے کبھی کسی فریادی کو دل کے درد سے جلتے ہوئے نہیں دیکھا۔)
3
तू ने तलवार रखी सर रखा में बंदा हूँ
अपनी तस्लीम का भी और तिरी जल्लादी का
تو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوں
اپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا
تُو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوں، اپنی تسلیم کا بھی اور تیری جلادِی کا۔
4
शहर की सी रही रौनक़ उसी के जीते-जी
मर गया क़ैस जो था ख़ाना ख़ुदा वादी का
شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جی
مر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
شہر کی رونق اسی کے جیتے جی تھی، / مر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
5
शैख़ क्या सूरतें रहती थीं भला जब था दैर
रू-ब-वीरानी हो इस का'बे की आबादी का
شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیر
رو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا
شایر پوچھتا ہے کہ جب یہ کاعب کا مقام زندہ تھا تو یہاں کیسی خوبصورتی رہی ہوگی، کیونکہ اب تو صرف ویرانی کی آبادی باقی ہے۔
6
रेख़्ता रुत्बे को पहुँचाया हुआ उस का है
मो'तक़िद कौन नहीं 'मीर' की उस्तादी का
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
جس شان نے محبوب کے ٹھکانے تک پہنچ کر اس کا مرتبہ بڑھایا ہے، وہ 'میر' کی استادی ہے، جسے ہر کوئی جانتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
