شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جی — میر تقی میر
شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جی
مر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
“The splendor of the city was alive while he lived, / Qais died, who was the very abode of God's valley.”
— میر تقی میر
معنی
شہر کی رونق اسی کے جیتے جی تھی، / مر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
تشریح
یہ شعر زندگی کی عارضی رونق کو بیان کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ کسی شہر کی رونق اس شخص کی موجودگی سے ہی ہے۔ جب وہ وجود ختم ہو جاتا ہے، تو ہر چیز بے جان ہو جاتی ہے۔ قیس کا مر جانا، خدا وادی کے گھر کا مٹ جانا ہے، جو وجود کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
