غزل
मुँह तका ही करे है जिस तिस का
मुँह तका ही करे है जिस तिस का
یہ غزل زندگی کے دکھاوے اور فریب پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس کسی کا منہ تکا ہے، وہ صرف ایک دھوکا ہے، اور یہ آئینہ بھی کسی کا نہیں حیران ہوتا۔ یہ محبت، دکھاوے اور زندگی کی عارضی فطرت کو چھوتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
मुँह तका ही करे है जिस तिस का
हैरती है ये आईना किस का
منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
یہ آینہ حیران ہے کہ یہ پریشانی کس کی ہے، کیونکہ یہ منہ ہے جس نے ایسی بات کہی ہے۔
2
शाम से कुछ बुझा सा रहता हूँ
दिल हुआ है चराग़ मुफ़्लिस का
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں، دل ہوا ہے چراغ مفلس کا۔
3
थे बुरे मुग़्बचों के तेवर लेक
शैख़ मय-ख़ाने से भला खिसका
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ مے خانے سے بھلا کھسکا
وہ برے مغبचों کے تیور لے کر، شیخ مے خانے سے بھلا پھسکا۔
4
दाग़ आँखों से खिल रहे हैं सब
हाथ दस्ता हुआ है नर्गिस का
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
आँखों से दाग़ खिल रहे हैं सब, और हाथ नर्गिस से बँधा है।
5
बहर कम-ज़र्फ़ है बसान-ए-हबाब
कासा-लैस अब हुआ है तू जिस का
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
اے محبوب، تیری زبان میں وہ شگفتگی نہیں جو ہبابی زبان میں ہوتی تھی، کیونکہ تو ایسا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔
6
फ़ैज़ ऐ अब्र चश्म-ए-तर से उठा
आज दामन वसीअ है इस का
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا
فیض اے ابر چشمِ تر سے اٹھا، آج دامن وسیع ہے اس کا۔ اس کا مطلب ہے کہ فیض (شاعر) تمہاری آنکھوں کے نبعِ اشک سے اٹھا ہے، اور آج اس کا وسیع دامن (یا اثر) پھیل چکا ہے۔
7
ताब किस को जो हाल-ए-मीर सुने
हाल ही और कुछ है मज्लिस का
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
شعر کس کو جو حالِ میر سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
