غزل

क्या मैं भी परेशानी-ए-ख़ातिर से क़रीं था

क्या मैं भी परेशानी-ए-ख़ातिर से क़रीं था
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل جدائی اور ہجر کے گہرے درد کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے عشق میں ہونے والی تکلیفوں سے سوال کرتا ہے۔ وہ یاد کرتا ہے کہ محبوب کی موجودگی میں بھی اسے جدائی کا درد محسوس ہوا، اور اس کے دل میں مسلسل غم اور محبوب کے لمس کا اثر باقی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या मैं भी परेशानी-ए-ख़ातिर से क़रीं था आँखें तो कहीं थीं दिल-ए-ग़म-दीदा कहीं था
کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریٰں تھا، آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم‌دیدا کہیں تھا۔
2
किस रात नज़र की है सू-ए-चश्मक-ए-अंजुम आँखों के तले अपने तो वो माह-जबीं था
کس رات نظر کی ہے سوئے چشمک انجم آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئے چشمکے انجم؟ آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہجبین تھا۔
3
आया तो सही वो कोई दम के लिए लेकिन होंटों पे मिरे जब नफ़स-ए-बाज़-पुसीं था
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
وہ تو آیا، شاید کسی لمحے کی خواہش کے لیے، مگر جب میرے ہونٹوں پر سانسوں کی چاشنی موجود تھی۔
4
अब कोफ़्त से हिज्राँ की जहाँ तन पे रखा हाथ जो दर्द-ओ-अलम था सो कहे तू कि वहीं था
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
اب کوفت سے ہجران کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ، جو درد و الم تھا سو کہے تُو کہ وہیں تھا۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ محبوب کی گال کے پاس، جہاں نے ہاتھ رکھا تھا، وہ تمام درد و غم اسی جگہ تھا۔
5
जाना नहीं कुछ जुज़ ग़ज़ल आ कर के जहाँ में कल मेरे तसर्रुफ़ में यही क़ित'आ ज़मीं था
جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
جگہ میں کچھ بھی غزل سے زیادہ عزیز نہیں، کیونکہ کل یہ پوری زمین میرے اختیار میں تھی۔
6
नाम आज कोई याँ नहीं लेता है उन्हों का जिन लोगों के कल मुल्क ये सब ज़ेर-ए-नगीं था
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا
آج کوئی ان لوگوں کا نام نہیں لیتا جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرِ نقیب تھا۔
7
मस्जिद में इमाम आज हुआ आ के वहाँ से कल तक तो यही 'मीर' ख़राबात-नशीं था
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آیا، وہاں سے۔ کل تک تو یہی 'میر' خرابات-نشیں تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.