Sukhan AI
नाम आज कोई याँ नहीं लेता है उन्हों का
जिन लोगों के कल मुल्क ये सब ज़ेर-ए-नगीं था

No one takes the name today of those, whose country was once entirely under their rule.

میر تقی میر
معنی

آج کوئی ان لوگوں کا نام نہیں لیتا جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرِ نقیب تھا۔

تشریح

یہ شعر دنیا کی فانی شان و شوکت اور وقت کے بدل جانے کا بیان ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ آج کوئی بھی ان لوگوں کا نام نہیں لیتا، جن کے ملک کبھی اتنے شان دار تھے۔ یہ ایک گہرا غم ہے کہ وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
नाम आज कोई याँ नहीं लेता है उन्हों का | Sukhan AI