غزل

सैर कर 'अंदलीब का अहवाल

सैर कर 'अंदलीब का अहवाल
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ایک شخص کے دل کی بے چینی اور اداسی کو بیان کرتی ہے، جو کسی پیارے کے جانے کے بعد اپنے دل کی سکون اور استحکام کھو چکا ہے۔ شاعر اپنے پریشان ذہن کے لیے ایک معالج کی تلاش کرتا ہے، لیکن اسے کوئی آرام نہیں ملتا۔ آخر میں، وہ اپنی پرانی یادوں اور گھر کو دیکھ کر اپنی بے چینی کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
सैर कर 'अंदलीब का अहवाल हैं परेशाँ चमन में कुछ पर-ओ-बाल
سیر کر عندلیب کا احوال ہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال
اندلِب کی حالت دیکھ کر، باغ میں کچھ بے چین روحیں اور پتے نظر آتے ہیں۔
2
तब-ए-ग़म तो गई तबीब वले फिर न आया कभू मिज़ाज-ए-बहाल
طبع غم تو گئی طبیب ولے پھر نہ آیا کبھو مزاج بحال
تَبا-ے-گَم تو گئی طبیب ولے، پھر نہ آیا کبھی مزاجِ بہال।
3
सब्ज़ा-नौ-रस्ता रहगुज़ार का हूँ सर उठाया कि हो गया पामाल
سبزہ نو رستہ رہ گزار کا ہوں سر اٹھایا کہ ہو گیا پامال
میں سبزا-نو-رستہ، رہگزر کا ہوں، مگر سر اٹھایا تو پامال ہو گیا۔
4
क्यूँ न देखूँ चमन को हसरत से आशियाँ था मिरा भी याँ पर-साल
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
میں اس باغ کو حسرت سے کیوں نہ دیکھوں، میرا آشیانہ بھی یہاں پر سال تھا۔
5
सर्द-मेहरी की बस-कि गुल-रू ने ओढ़ी अब्र-ए-बहार ने भी शाल
سرد مہری کی بسکہ گل رو نے اوڑھی ابر بہار نے بھی شال
سرد مہری کے گل رو نے، اب ابرِ بہار سے بھی شال اوڑھ لی۔
6
हिज्र की शब को याँ तईं तड़पा कि हुआ सुब्ह होते मेरा विसाल
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
تھے فراق کی رات میں نے خود کو اتنا تڑپایا کہ صبح ہوتے ہی مجھے آپ سے ملاقات ہو گئی۔
7
हम तो सह गुज़रे कज-रवी तेरी न निभे गी पर ऐ फ़लक ये चाल
ہم تو سہہ گزرے کج روی تیری نہ نبھے گی پر اے فلک یہ چال
ہم تو تیرے غروبِ آفتاب کا وقت سہہ لیا، پر اے فلک، یہ چال دھوکہ رہے گی۔
8
दीदा-ए-तर पे शब रखा था 'मीर' लुक्का-ए-अब्र है मिरा रूमाल
دیدۂ تر پہ شب رکھا تھا میرؔ لکۂ ابر ہے مرا رومال
دیदा-ए-طر پہ شب رکھا تھا 'میر'۔ میرا رومال اَبر کا پردہ ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.