غزل
सैर कर 'अंदलीब का अहवाल
सैर कर 'अंदलीब का अहवाल
یہ غزل ایک شخص کے دل کی بے چینی اور اداسی کو بیان کرتی ہے، جو کسی پیارے کے جانے کے بعد اپنے دل کی سکون اور استحکام کھو چکا ہے۔ شاعر اپنے پریشان ذہن کے لیے ایک معالج کی تلاش کرتا ہے، لیکن اسے کوئی آرام نہیں ملتا۔ آخر میں، وہ اپنی پرانی یادوں اور گھر کو دیکھ کر اپنی بے چینی کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सैर कर 'अंदलीब का अहवाल
हैं परेशाँ चमन में कुछ पर-ओ-बाल
اندلِب کی حالت دیکھ کر، باغ میں کچھ بے چین روحیں اور پتے نظر آتے ہیں۔
2
तब-ए-ग़म तो गई तबीब वले
फिर न आया कभू मिज़ाज-ए-बहाल
تَبا-ے-گَم تو گئی طبیب ولے، پھر نہ آیا کبھی مزاجِ بہال।
3
सब्ज़ा-नौ-रस्ता रहगुज़ार का हूँ
सर उठाया कि हो गया पामाल
میں سبزا-نو-رستہ، رہگزر کا ہوں، مگر سر اٹھایا تو پامال ہو گیا۔
4
क्यूँ न देखूँ चमन को हसरत से
आशियाँ था मिरा भी याँ पर-साल
میں اس باغ کو حسرت سے کیوں نہ دیکھوں، میرا آشیانہ بھی یہاں پر سال تھا۔
5
सर्द-मेहरी की बस-कि गुल-रू ने
ओढ़ी अब्र-ए-बहार ने भी शाल
سرد مہری کے گل رو نے، اب ابرِ بہار سے بھی شال اوڑھ لی۔
6
हिज्र की शब को याँ तईं तड़पा
कि हुआ सुब्ह होते मेरा विसाल
تھے فراق کی رات میں نے خود کو اتنا تڑپایا کہ صبح ہوتے ہی مجھے آپ سے ملاقات ہو گئی۔
7
हम तो सह गुज़रे कज-रवी तेरी
न निभे गी पर ऐ फ़लक ये चाल
ہم تو تیرے غروبِ آفتاب کا وقت سہہ لیا، پر اے فلک، یہ چال دھوکہ رہے گی۔
8
दीदा-ए-तर पे शब रखा था 'मीर'
लुक्का-ए-अब्र है मिरा रूमाल
دیदा-ए-طر پہ شب رکھا تھا 'میر'۔ میرا رومال اَبر کا پردہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
