दीदा-ए-तर पे शब रखा था 'मीर'
लुक्का-ए-अब्र है मिरा रूमाल
“On the bed of the beloved, I spent the night, 'Mir', My handkerchief is the curtain of the cloud.”
— میر تقی میر
معنی
دیदा-ए-طر پہ شب رکھا تھا 'میر'۔ میرا رومال اَبر کا پردہ ہے۔
تشریح
یہ شعر عشق کی گہری یاد کو بیان کرتا ہے۔ 'دیदा-ئے-تر پہ شب رکھا تھا' کا مطلب ہے کہ محبوب کی آنکھوں میں رات کی طرح کوئی گہرا احساس بس گیا ہے۔ اور یہ پردہ، جو بادل کے نشان سے رنگین ہے، گزرے ہوئے لمحوں کی یاد کی گواہی دیتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev8 / 8
