غزل
शब-ए-दर्द-ओ-ग़म से अर्सा मिरे जी पे तंग था
शब-ए-दर्द-ओ-ग़म से अर्सा मिरे जी पे तंग था
یہ غزل درد اور غم کے ماحول سے لمبے عرصے تک پریشان رہنے کی بات کرتی ہے۔ شاعر مندرجہ پوچھتا ہے کہ کیا یہ رات فراق کی تھی یا جنگ کا دن، اور دل کے زخم کا درد شاید اتنا تھا کہ وہ مسلسل پریشان کر رہا تھا۔ اس میں عشق کے جنون اور دل کے زخموں کے درد کا بیان ہے۔
نغمہ سنیں
1
शब-ए-दर्द-ओ-ग़म से अर्सा मिरे जी पे तंग था
आया शब-ए-फ़िराक़ थी या रोज़-ए-जंग था
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
شَبِ درد و غم سے عرصہ میرے جی پہ تنگ تھا، آیا شبِ فراق تھی یا روزِ جنگ تھا؟
2
कसरत में दर्द-ओ-ग़म की न निकली कोई तपिश
कूचा जिगर के ज़ख़्म का शायद कि तंग था
کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی تپش
کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
کَرَشت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی تپش، شاید جگر کے زخم کا راستہ ہی بہت تنگ تھا۔
3
लाया मिरे मज़ार पे उस को ये जज़्ब-ए-इश्क़
जिस बेवफ़ा को नाम से भी मेरे नंग था
لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشق
جس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
اس बेवफ़ا نے میرے مزار پر محبت کا یہ جذبہ لایا، جس کا نام بھی میرا تھا۔
4
देखा है सैद-गा में तिरे सैद का जिगर
बाआनका छिन रहा था पे ज़ौक़-ए-ख़दंग था
دیکھا ہے صید گا میں ترے صید کا جگر
با آنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا
سید گاہ میں تیرے سید کے دل نے دیکھا کہ بہار کا چھن جانا صرف خودی کے لذت تھی۔
5
दिल से मिरे लगा न तिरा दिल हज़ार हैफ़
ये शीशा एक उम्र से मुश्ताक़-ए-संग था
دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا
میرے دل نے تیرا دل نہیں لگایا، یہ شیشہ ایک عمر سے تیری سنگت کو ترسا تھا۔
6
मत कर अजब जो 'मीर' तिरे ग़म में मर गया
जीने का इस मरीज़ के कोई भी ढंग था
مت کر عجب جو میرؔ ترے غم میں مر گیا
جینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا
عجب نہ کر، میرؔ، کہ تیرے غم میں میں مر گیا؛ اس مریض کے جینے کا کوئی بھی ڈھنگ نہیں ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
