دیکھا ہے صید گا میں ترے صید کا جگر — میر تقی میر
“In the garden of the Sayyid, your Sayyid's heart saw, / That the passing of time was merely the delight of the self.”
معنی
سید گاہ میں تیرے سید کے دل نے دیکھا کہ بہار کا چھن جانا صرف خودی کے لذت تھی۔
تشریح
Mir Taqi Mir کہتے ہیں کہ جب دل نے سید کے باغ میں دیکھا، تو اسے یہ احساس ہوا کہ وقت کا گزرنا دراصل خود کی ہی لذت کا ایک کھیل ہے۔ یہ ایک گہرا مشاہدہ ہے کہ انسان اپنے ہی تجربات میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اسے وقت کا گزر جانا ایک فطری لطف لگتا ہے۔ شاعر یہاں ہمیں مادی تعلقات سے دور ہو کر، زندگی کی فانیت کو ایک تنقیدی زاویے سے دیکھنا سکھاتے ہیں۔ یہ نظریہ ہمیں خود شناسی اور بے تعلق ہونے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
