غزل
चोरी में दिल की वो हुनर कर गया
चोरी में दिल की वो हुनर कर गया
یہ غزل بتاتی ہے کہ کسی نے چوری سے دل کا فن لے لیا ہے۔ ایک نظر سے ہی دل میں گھر کر گیا اور زندگی کا سفر بدل گیا۔ یہ ایک غیر متوقع اور اچانک محبت کے بارے میں ہے۔
نغمہ سنیں
1
चोरी में दिल की वो हुनर कर गया
देखते ही आँखों में घर कर गया
چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا
دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا
اس نے چوری کرکے دل کا ہنر چُرا لیا اور دیکھتے ہی آنکھوں میں اپنا گھر بنا لیا۔
2
दहर में मैं ख़ाक-बसर ही रहा
उम्र को इस तौर बसर कर गया
دہر میں میں خاک بسر ہی رہا
عمر کو اس طور بسر کر گیا
میں دہر میں خاک-بسر ہی رہا، عمر کو اس طرح بسر کر گیا۔
3
दिल नहीं है मंज़िल-ए-सीना में अब
याँ से वो बेचारा सफ़र कर गया
دل نہیں ہے منزل سینہ میں اب
یاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا
دل نہیں ہے منزل-ئے-سینے میں اب، یہاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا. اس کا سادہ مطلب ہے کہ اب نہ دل ہے نہ سینے میں منزل، اور وہ بیچارہ یہاں سے سفر کر گیا ہے۔
4
हैफ़ जो वो नुस्ख़ा-ए-दिल के उपर
सरसरी सी एक नज़र कर गया
حیف جو وہ نسخۂ دل کے اپر
سرسری سی ایک نظر کر گیا
جیسے وہ دل کے نسخے پر نظر ڈال گیا۔
5
किस को मिरे हाल से थी आगही
नाला-ए-शब सब को ख़बर कर गया
کس کو مرے حال سے تھی آگہی
نالۂ شب سب کو خبر کر گیا
کس کو میرے حال سے تھی آگہی، نالۂ شب سب کو خبر کر گیا۔
6
गो न चला ता-मिज़ा-ए-तीर-ए-निगह
अपने जिगर से तू गुज़र कर गया
گو نہ چلا تا مژۂ تیر نگہ
اپنے جگر سے تو گزر کر گیا
شاعر کہتا ہے کہ 'اپنی نگاہ کے تیر کے نشے سے مجھے نہیں بہکانا، کیونکہ تم میرے دل سے گزر کر چلے گئے۔'
7
मज्लिस-ए-आफ़ाक़ में परवाना साँ
'मीर' भी शाम अपनी सहर कर गया
مجلس آفاق میں پروانہ ساں
میرؔ بھی شام اپنی سحر کر گیا
مَجْلِسِ اَافَاق میں پروانہ ساں، 'میر' نے بھی اپنی شام کو سحر کر دیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
