غزل
नक़्क़ाश देख तो मैं क्या नक़्श-ए-यार खींचा
नक़्क़ाश देख तो मैं क्या नक़्श-ए-यार खींचा
شاعر کہتے ہیں کہ نقّاش کو دیکھتے ہوئے، میں نے محبوب کی صورت کیسے کھینچی؟ وہ دلکش شخص کا انتظار اور محبت کے رنگ کھینچتے ہیں۔ اشعار میں یہ کہا گیا ہے کہ عشق کی رسموں کے بارے میں کچھ نہ پوچھیں، کیونکہ خالی دلوں کے لیے بھی یہ کھینچا گیا ہے۔
نغمہ سنیں
1
नक़्क़ाश देख तो मैं क्या नक़्श-ए-यार खींचा
उस शोख़ कम-नुमा का नित इंतिज़ार खींचा
نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا
اس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا
نَقّاش کو دیکھ کر، میں کیا کروں کہ محبوب کا نقش بناؤں۔ اُس شوخ کم-نمہ کی ہر بار انتظار کا نقش بناؤں۔
2
रस्म-ए-क़लमरव-ए-इश्क़ मत पूछ कुछ कि नाहक़
एकों की खाल खींची एकों को दार खींचा
رسم قلمرو عشق مت پوچھ کچھ کہ ناحق
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
رسمِ قلمروِ عشق نہ پوچھ کچھ کہ نہاق؛ ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا۔
3
था बद-शराब साक़ी कितना कि रात मय से
मैं ने जो हाथ खींचा उन ने कटार खींचा
تھا بد شراب ساقی کتنا کہ رات مے سے
میں نے جو ہاتھ کھینچا ان نے کٹار کھینچا
اے مست ساغر، اُس رات مے سے کتنا پیا دیا؟ میں نے جب ہاتھ کھینچا، تو انہوں نے خنجر نکال لیا۔
4
मस्ती में शक्ल सारी नक़्क़ाश से खिंची पर
आँखों को देख उस की आख़िर ख़ुमार खींचा
مستی میں شکل ساری نقاش سے کھنچی پر
آنکھوں کو دیکھ اس کی آخر خمار کھینچا
مستی میں چہرہ پوری طرح سے نَقشاگر نے کھینچا تھا، مگر آنکھوں کو دیکھ کر آخر میں نشہ (یا حُمر) آ گیا۔
5
जी खिंच रहे हैं ऊधर आलम का होगा बलवा
गर शाने तू ने उस की ज़ुल्फ़ों का तार खींचा
جی کھنچ رہے ہیں اودھر عالم کا ہوگا بلوہ
گر شانے تو نے اس کی زلفوں کا تار کھینچا
اس کا مطلب ہے کہ اگر تم نے اس کی زلفوں کا ایک تار بھی کھینچا، تو وہاں عالم میں ایک بڑا ہنگامہ ہو جائے گا۔
6
था शब किसे कसाए तेग़-ए-कशीदा-कफ़ में
पर मैं ने भी बग़ल बग़ल बे-इख़्तियार खींचा
تھا شب کسے کسائے تیغ کشیدہ کف میں
پر میں نے بھی بغل بغل بے اختیار کھینچا
شاعر کہتا ہے کہ چاند نے قیدی کی کمر سے کمان کی ڈور کا ایک دھاگا کھینچا، مگر شاعر نے بھی اتفاق سے کمر کھینچ لی۔
7
फिरता है 'मीर' तो जो फाड़े हुए गरेबाँ
किस किस सितम-ज़दे ने दामाँ यार खींचा
پھرتا ہے میرؔ تو جو پھاڑے ہوئے گریباں
کس کس ستم زدے نے داماں یار کھینچا
جب میر گھومتا ہے تو کس کے پھٹے ہوئے گرباں ہیں، کس کس ستم زدے نے دامن یار کھینچا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
