غزل
ख़ंजर-ब-कफ़ वो जब से सफ़्फ़ाक हो गया है
ख़ंजर-ब-कफ़ वो जब से सफ़्फ़ाक हो गया है
یہ غزل ایک ایسے دور کی عکاسی کرتی ہے جہاں ظلم و ستم کا ماحول ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ جگہ جو کبھی پاک سمجھی جاتی تھی، اب داغدار ہو چکی ہے، اور یہاں کے درد و لذتوں نے دل کو خاک کر دیا ہے۔ یہ سماجی اور جذباتی زوال کا ایک گہرا اظہار ہے۔
نغمہ سنیں
1
ख़ंजर-ब-कफ़ वो जब से सफ़्फ़ाक हो गया है
मुल्क इन सितम-ज़दों का सब पाक हो गया है
خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے
ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے
خنجر-ب-کف وہ جب سے صفاق ہو گیا ہے، ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ جب سے 'خنجر-ب-کف' ایک قصاب خانے والا بن گیا ہے، تو مظلوموں کا یہ ملک سب پاک ہو گیا ہے۔
2
जिस से उसे लगाऊँ रूखा ही हो मिले है
सीने में जल कर अज़-बस दिल ख़ाक हो गया है
جس سے اسے لگاؤں روکھا ہی ہو ملے ہے
سینے میں جل کر از بس دل خاک ہو گیا ہے
جس سے میں امید لگاؤں، صرف بےابی ملتا ہے؛ میرے سینے میں جل کر میرا دل خاک ہو گیا ہے۔
3
क्या जानों लज़्ज़त-ए-दर्द उस की जराहतों की
ये जानों हूँ कि सीना सब चाक हो गया है
کیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کی
یہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے
اے جان، اس کے زخموں کے درد کا کیا مزہ ہے؟ یہ جان، میرا سینہ سب کھوکھلا ہو گیا ہے۔
4
सोहबत से इस जहाँ की कोई ख़लास होगा
इस फ़ाहिशा पे सब को इमसाक हो गया है
صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہوگا
اس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے
آپ کی صحبت سے اس جہاں کا کوئی عروج ہوگا، اور سب لوگ اس فاحشہ پر مسحور ہو گئے ہیں۔
5
दीवार कोहना है ये मत बैठ उस के साए
उठ चल कि आसमाँ तो का वाक हो गया है
دیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائے
اٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے
دیوار کی چھائے میں مت بیٹھو؛ اٹھو، کیونکہ آسمان تو وعدے کا ہو گیا ہے۔
6
शर्म-ओ-हया कहाँ की हर बात पर है शमशीर
अब तो बहुत वो हम से बेबाक हो गया है
شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر
اب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے
شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر۔ اب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے۔
7
हर हर्फ़ बस-कि रोया है हाल पर हमारे
क़ासिद के हाथ में ख़त नमनाक हो गया है
ہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارے
قاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے
ہر حرف ہمارے حال پر رویا ہے، اور قاصد کے ہاتھ میں خط آنسوؤں سے نم ہو گیا ہے۔
8
ज़ेर-ए-फ़लक भला तो रोवे है आप को 'मीर'
किस किस तरह का आलम याँ ख़ाक हो गया है
زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میرؔ
کس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے
اے زَرِ فلک، بھلا تو روئے ہے آپ کو 'میر'۔ کس کس طرح کا عالم یہاں خاک ہو گیا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
