शर्म-ओ-हया कहाँ की हर बात पर है शमशीर
अब तो बहुत वो हम से बेबाक हो गया है
“Where is the modesty for every word? The sword is drawn now for every talk. He has become so brazen with us.”
— میر تقی میر
معنی
شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر۔ اب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے۔
تشریح
یہ شعر ایک ایسے تعلق کی بات ہے جہاں محبت کے نام پر حدود ختم ہو چکی ہیں۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ محبوب کی بے باکی نے حد پار کر دی ہے، اور ہر بات اب ایک وار کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ یہ رشتوں کی نازک خصلتوں کے ٹوٹنے کا درد ہے۔
