Sukhan AI
غزل

तड़पना भी देखा न बिस्मिल का अपने

तड़पना भी देखा न बिस्मिल का अपने
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل بصیمل کے اپنے درد اور درد سہنے کے انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے اپنی زندگی کے دکھوں اور جدوجہد کو بیان کیا ہے، ساتھ ہی اپنے زخمی دل کو شفا دینے کی کوششوں کا ذکر کیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तड़पना भी देखा बिस्मिल का अपने मैं कुश्ता हूँ अंदाज़-ए-क़ातिल का अपने
میں نے نہ بَسمِیل کا تڑپ دیکھا ہے، اور نہ اپنا؛ میں تو اپنے ہی انداز کا قاتل ہوں۔
2
पूछो कि अहवाल ना-गुफ़्ता-बह है मुसीबत के मारे हुए दिल का अपने
اپنے حال کے بارے میں نہیں پوچھنا، کیونکہ یہ بات بغیر کہے ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ جو دل مصیبت سے پریشان ہوتا ہے، وہ اپنی حالت مجھ سے نہیں بتاتا۔
3
दिल-ए-ज़ख़्म-ख़ुर्दा के और इक लगाई मुदावा क्या ख़ूब घायल का अपने
زخم خوردہ دل پر اور ایک چوٹ لگی، یہ کس قسم کی شفا ہے جو خود زخمی کے لیے لگائی گئی ہے۔
4
जो ख़ोशा था सद ख़िर्मन-ए-बर्क़ था याँ जलाया हुआ हूँ मैं हासिल का अपने
چاہے بجلی کا خزانہ کبھی شاندار تھا یا نہیں، میں نے اپنے ہی حاصل کو جلا دیا ہے۔
5
टक अबरू को मेरी तरफ़ कीजे माइल कभू दिल भी रख लीजे माइल का अपने
براہ کرم اپنی نظر میری طرف تھوڑی مائل کیجیے۔ کبھی کبھی اپنا دل بھی میری طرف مائل رکھیے۔
6
हुआ दफ़्तर-ए-क़ैस आख़िर अभी याँ सुख़न है जुनूँ के अवाएल का अपने
دفتَرِ قیس آخر ابھی یہاں ہو گیا۔ کیا یہ صرف اپنے جنون کی شاعری کا آغاز ہے؟
7
बिनाएँ रखीं मैं ने आलम में क्या क्या हूँ बंदा ख़यालात-ए-बातिल का अपने
میں نے عالم میں بغیر محبوب کے کیا کیا رکھا ہے؟ میں تو اپنے ہی باطل خیاالات میں پھنسا بندہ ہوں۔
8
मक़ाम-ए-फ़ना वाक़िए में जो देखा असर भी था गोर मंज़िल का अपने
فنا کے مقام میں جو واقعے میں دیکھا، اس میں اپنے لیے محبوب کی منزل کا کوئی اثر نہیں تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.