غزل
अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे
अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे
یہ غزل ایک طنزیہ اور خود-تکمیلی نکتہ ہے، جس میں شاعر 'میر' اپنی زندگی اور فنکارانہ حالت پر تبصرہ کرتا ہے۔ وہ یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ ایک سادہ، عام انسان (زیندیق) بن کر ہی خوش ہے، اور محفل میں کلام پڑھنے یا فن کا مظاہرہ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے۔ مجموعی طور پر، یہ انسانی جذبات کی پیچیدگیوں اور فن کی عارضی نوعیت پر ایک غور طلب تبصرہ ہے۔
نغمہ سنیں
1
अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे
पेशानी पे दे क़श्क़ा ज़ुन्नार पहन बैठे
اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے
پیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھے
اب میر صاحب تو اچھے زنديق ہی بن بیٹھے، پیشانی پہ دے قشقا زُنّار پہن بیٹھے۔
2
आज़ुर्दा दिल-ए-उलफ़त हम चुपके ही बेहतर हैं
सब रो उठेगी मज्लिस जो कर के सुख़न बैठे
آزردہ دل الفت ہم چپکے ہی بہتر ہیں
سب رو اٹھے گی مجلس جو کر کے سخن بیٹھے
عشق کا دل آزردا ہے، ہم خاموش رہنا ہی بہتر ہیں، کیونکہ مجلس میں اگر کوئی سخن کرنے بیٹھے گا تو سب رو پڑے گی۔
3
उर्यान फिरें कब तक ऐ काश कहीं आ कर
ता गर्द बयाबाँ की बाला-ए-बदन बैठे
عریان پھریں کب تک اے کاش کہیں آ کر
تا گرد بیاباں کی بالائے بدن بیٹھے
اشارہ ہے کہ شاعر پوچھتا ہے کہ وہ کتنا وقت تک گھومتا رہے گا، اور کاش محبوب آ کر بیدادِ صحرا کی بالا-ए-جسم بن کر بیٹھے۔
4
पैकान-ए-ख़दंग उस का यूँ सीने के ऊधर है
जों मार-ए-सियह कोई काढ़े हुए फन बैठे
پیکان خدنگ اس کا یوں سینے کے اودھر ہے
جوں مار سیہ کوئی کاڑھے ہوئے پھن بیٹھے
اس کا خودی کی تلوار کا کنارہ اس کے سینے پر ہے، جہاں موت کے سیاہ نشان فن کی بناوٹ بناتے ہیں۔
5
जुज़ ख़त के ख़याल उस के कुछ काम नहीं हम को
सब्ज़ी पिए हम अक्सर रहते हैं मगन बैठे
جز خط کے خیال اس کے کچھ کام نہیں ہم کو
سبزی پیے ہم اکثر رہتے ہیں مگن بیٹھے
اس کے خط کے خیال ہمارے لیے کچھ نہیں ہیں؛ ہم اکثر مگن بیٹھے رہتے ہیں، جیسے سبزی پی رہے ہوں۔
6
शमशीर-ए-सितम उस की अब गो का चले हर-दम
शोरीदा-सर अपने से हम बाँध कफ़न बैठे
شمشیر ستم اس کی اب گو کا چلے ہر دم
شوریدہ سر اپنے سے ہم باندھ کفن بیٹھے
اس کی ظلم کی تلوار اب ہر دم اس کا چلے گی؛ ہم نے اپنے سروں سے کفن باندھ لیے۔
7
बस हो तो इधर-ऊधर यूँ फिरने न दें तुझ को
नाचार तिरे हम ये देखें हैं चलन बैठे
بس ہو تو ادھر اودھر یوں پھرنے نہ دیں تجھ کو
ناچار ترے ہم یہ دیکھیں ہیں چلن بیٹھے
اگر تم تیار ہو، تو مجھے یہاں وہاں یوں بھٹکنے نہ دو، کیونکہ ہم، تمہارے ناداں لوگ، تمہارا چلن دیکھ چکے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
