Sukhan AI
غزل

अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे

अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک طنزیہ اور خود-تکمیلی نکتہ ہے، جس میں شاعر 'میر' اپنی زندگی اور فنکارانہ حالت پر تبصرہ کرتا ہے۔ وہ یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ ایک سادہ، عام انسان (زیندیق) بن کر ہی خوش ہے، اور محفل میں کلام پڑھنے یا فن کا مظاہرہ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے۔ مجموعی طور پر، یہ انسانی جذبات کی پیچیدگیوں اور فن کی عارضی نوعیت پر ایک غور طلب تبصرہ ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे पेशानी पे दे क़श्क़ा ज़ुन्नार पहन बैठे
اب میر صاحب تو اچھے زنديق ہی بن بیٹھے، پیشانی پہ دے قشقا زُنّار پہن بیٹھے۔
2
आज़ुर्दा दिल-ए-उलफ़त हम चुपके ही बेहतर हैं सब रो उठेगी मज्लिस जो कर के सुख़न बैठे
عشق کا دل آزردا ہے، ہم خاموش رہنا ہی بہتر ہیں، کیونکہ مجلس میں اگر کوئی سخن کرنے بیٹھے گا تو سب رو پڑے گی۔
3
उर्यान फिरें कब तक काश कहीं कर ता गर्द बयाबाँ की बाला-ए-बदन बैठे
اشارہ ہے کہ شاعر پوچھتا ہے کہ وہ کتنا وقت تک گھومتا رہے گا، اور کاش محبوب آ کر بیدادِ صحرا کی بالا-ए-جسم بن کر بیٹھے۔
4
पैकान-ए-ख़दंग उस का यूँ सीने के ऊधर है जों मार-ए-सियह कोई काढ़े हुए फन बैठे
اس کا خودی کی تلوار کا کنارہ اس کے سینے پر ہے، جہاں موت کے سیاہ نشان فن کی بناوٹ بناتے ہیں۔
5
जुज़ ख़त के ख़याल उस के कुछ काम नहीं हम को सब्ज़ी पिए हम अक्सर रहते हैं मगन बैठे
اس کے خط کے خیال ہمارے لیے کچھ نہیں ہیں؛ ہم اکثر مگن بیٹھے رہتے ہیں، جیسے سبزی پی رہے ہوں۔
6
शमशीर-ए-सितम उस की अब गो का चले हर-दम शोरीदा-सर अपने से हम बाँध कफ़न बैठे
اس کی ظلم کی تلوار اب ہر دم اس کا چلے گی؛ ہم نے اپنے سروں سے کفن باندھ لیے۔
7
बस हो तो इधर-ऊधर यूँ फिरने दें तुझ को नाचार तिरे हम ये देखें हैं चलन बैठे
اگر تم تیار ہو، تو مجھے یہاں وہاں یوں بھٹکنے نہ دو، کیونکہ ہم، تمہارے ناداں لوگ، تمہارا چلن دیکھ چکے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.