उर्यान फिरें कब तक ऐ काश कहीं आ कर
ता गर्द बयाबाँ की बाला-ए-बदन बैठे
“How long shall I roam, oh, if only you would come, And sit like a maiden of the desert winds, my beloved.”
— میر تقی میر
معنی
اشارہ ہے کہ شاعر پوچھتا ہے کہ وہ کتنا وقت تک گھومتا رہے گا، اور کاش محبوب آ کر بیدادِ صحرا کی بالا-ए-جسم بن کر بیٹھے۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرا اور دلکش نذرانہ ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے پوچھتے ہیں کہ تم یوں ہی بھٹکتے کب رہو گے؟ وہ بس یہ خواہش کرتے ہیں کہ تم آ کر اس ویران حسن پر بیٹھ جاؤ۔ یہ دور اور قریب، ایک جذباتی تعلق کا اظہار ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
