غزل

जब से उस बेवफ़ा ने बाल रखे

जब से उस बेवफ़ा ने बाल रखे
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک ایسے رشتے کے درد اور جذباتی الجھن کو بیان کرتی ہے، جہاں بے وفائی نے نہ صرف دل توڑا ہے، بلکہ ہر لمحے ایک بے چینی اور خوفناک یادوں کا جال بُن دیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب ہر چیز میں ایک عجیب سا خوف اور خیال سما گیا ہے، اور کسی کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ کس درد سے گزر رہا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जब से उस बेवफ़ा ने बाल रखे सैद बंदों ने जाल डाल रखे
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے صید بندوں نے جال ڈال رکھے
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے، سید بندوں نے جال ڈال رکھے. اس شعر کا لفظی مطلب ہے کہ جس وقت اس بے وفہ عورت نے اپنے بال کھولے، اسی وقت سید خاندان کے لوگوں نے اپنے جال بچھا دیے ہیں۔
2
हाथ क्या आवे वो कमर है हेच यूँ कोई जी में कुछ ख़याल रखे
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
اس کا مطلب ہے کہ کسی کے دل میں خیال رکھنے سے ہاتھوں یا کمر کا کوئی کام نہیں ہو سکتا۔
3
रह-रव-ए-राह ख़ौफ़नाक इश्क़ चाहिए पाँव को सँभाल रखे
رہرو راہ خوفناک عشق چاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے
راہ کی گونج اور خوفناک عشق، دونوں ہی پاؤں کو سنبھالے رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں۔
4
पहुँचे हर इक न दर्द को मेरे वो ही जाने जो ऐसा हाल रखे
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
میرے ہر درد کو کون پہنچا ہے، یہ تو وہ ہی جانتا ہے جو میرے اس حال میں ہے۔
5
ऐसे ज़र दोस्त हो तो ख़ैर है अब मलिए उस से जो कोई माल रखे
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
اگر تم ایسے دوست ہو تو خیر ہے اب، ملنے اس سے جو کوئی مال رکھے۔
6
बहस है नाक़िसों से काश फ़लक मुझ को इस ज़ुमरे से निकाल रखे
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
شاعر کہتا ہے کہ وہ ناقص لوگوں سے بحث کرنا بند کرنا چاہتا ہے اور کاش فلک اسے اس گروہ سے نکال دے۔
7
समझे अंदाज़ शे'र को मेरे 'मीर' का सा अगर कमाल रखे
سمجھے انداز شعر کو میرے میرؔ کا سا اگر کمال رکھے
اگر میں 'میر' کے انداز میں ایک ایسا شعر کہہ سکوں، جس میں ان کے شاندار فن کا مقابلہ کرنے والی مہارت ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

जब से उस बेवफ़ा ने बाल रखे | Sukhan AI