غزل
मत हो मग़रूर ऐ कि तुझ में ज़ोर है
मत हो मग़रूर ऐ कि तुझ में ज़ोर है
یہ غزل غرور نہ کرنے کی تنبیہ کرتی ہے، کیونکہ انسان کے اندر بھی بڑی طاقتیں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی حقیقی دولت اور طاقت اس کے علم اور وقار میں مضمر ہے۔ یہ زندگی میں عاجزی اور روحانی رہنمائی کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
मत हो मग़रूर ऐ कि तुझ में ज़ोर है
याँ सुलैमाँ के मुक़ाबिल मोर है
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
یاں سلیماں کے مقابل مور ہے
مت مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے، تو سلیمان کے مقابلے میں ہے، اور مور تو صرف ایک مثال ہے۔
2
मर गए पर भी है सौलत फ़क़्र की
चश्म-ए-शीर अपना चराग़-ए-गोर है
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کی
چشم شیر اپنا چراغ گور ہے
مر گئے پر بھی فقر کی صلت باقی ہے، میری شیر جیسی آنکھ، اپنی گائے جیسی روشنی ہے۔
3
जब से काग़ज़-बाद का है शौक़ उसे
एक आलम उस के ऊपर डोर है
جب سے کاغذ باد کا ہے شوق اسے
ایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
جب سے کاغذ-باد کا ہے شوق اسے، ایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے۔
4
रहनुमाई शैख़ से मत चश्म रख
वाए वो जिस का असा कश-कोर है
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھ
وائے وہ جس کا عصا کش کور ہے
رहनुمائی شیخ سے مت چشم رکھ، وہ تو اُسی کا دلکش ہے جس کا کمان اور تیر ہے۔
5
ले ही जाती है ज़र-ए-गुल को उड़ा
सुब्ह की भी बाव-बादी चोर है
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑا
صبح کی بھی باؤ بادی چور ہے
یہ (ہوا) گل کی دھول کو اڑا لے جاتی ہے، اور صبح کی بے کاریاں صبح کے چور ہیں۔
6
दिल खिंचे जाते हैं सारे उस तरफ़
क्यूँके कहिए हक़ हमारी ओर है
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرف
کیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
سارے دل اس طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، کیونکہ حق ہماری طرف ہے۔
7
था बला हंगामा-आरा 'मीर' भी
अब तलक गलियों में उस का शोर है
تھا بلا ہنگامہ آرا میرؔ بھی
اب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
اے میر، آپ تو بڑا ہنگامہ کرنے والے تھے، مگر آج بھی گلیوں میں آپ کی گونج سنائی دیتی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
