غزل

हो आजिज़ कि जिस्म इस क़दर ज़ोर से

हो आजिज़ कि जिस्म इस क़दर ज़ोर से
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک ایسے شخص کے درد اور مایوسی کو بیان کرتی ہے جس کے جسم میں ایک عجیب سی کمزوری ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ کوئی بہت دور ہو، مگر اس کی فریاد میں بھی ایک شور ہے۔ یہ کلام محبت کے دکھ اور جدائی کے گہرے احساسات کو پیش کرتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
हो आजिज़ कि जिस्म इस क़दर ज़ोर से न निकला कभू उहदा-ए-मोर से
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے نہ نکلا کبھو عہدۂ مور سے
اے آجیض، کہ جسم اس قدر زور سے نکلا کبھی اوہدا-ए-مور سے۔
2
बहुत दूर कोई रहा है मगर कि फ़रियाद में है जरस शोर से
بہت دور کوئی رہا ہے مگر کہ فریاد میں ہے جرس شور سے
بہت دور کوئی رہتا ہے، مگر اس کی فریاد زور دار شور سے ہے۔
3
मिरी ख़ाक-ए-तफ़्ता पर ऐ अब्र-ए-तर क़सम है तुझे टक बरस ज़ोर से
مری خاک تفتہ پر اے ابر تر قسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
میری خاک-ए-تخت پر، اے ابر-ئے-غَم، میں قَسم کرتا ہوں کہ میں تجھ پر پوری طاقت سے برسوں۔
4
तिरे दिल-जले को रखा जिस घड़ी धुआँ सा उठा कुछ लब-ए-गोर से
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی دھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
جس لمحے دل جل رہا تھا، اسی لمحے محبوب کے ہونٹوں سے دھوئیں کی طرح کچھ اٹھا۔
5
न पूछो कि बे-ए'तिबारी से मैं हुआ उस गली में बतर चोर से
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں ہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہ پوچھو کہ بے-عتباری سے میں اس گلی میں چور کے ساتھ کیسے آ گیا۔
6
नहीं सूझता कुछ जो उस बिन हमें बग़ैर उस के रहते हैं हम कोर से
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں بغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
اس کے بغیر ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا، ہم تو بس اس کے سہارے جی رہے ہیں۔
7
जो हो 'मीर' भी इस गली में सबा बहुत पूछियो तो मिरी ओर से
جو ہو میرؔ بھی اس گلی میں صبا بہت پوچھیو تو مری اور سے
اے میر، اگرچہ اس گلی میں شام کی ہوا ہے، اگر تم بہت پوچھو گے تو میری طرف سے دینے کو کچھ نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.