غزل
हो आजिज़ कि जिस्म इस क़दर ज़ोर से
हो आजिज़ कि जिस्म इस क़दर ज़ोर से
یہ غزل ایک ایسے شخص کے درد اور مایوسی کو بیان کرتی ہے جس کے جسم میں ایک عجیب سی کمزوری ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ کوئی بہت دور ہو، مگر اس کی فریاد میں بھی ایک شور ہے۔ یہ کلام محبت کے دکھ اور جدائی کے گہرے احساسات کو پیش کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हो आजिज़ कि जिस्म इस क़दर ज़ोर से
न निकला कभू उहदा-ए-मोर से
اے آجیض، کہ جسم اس قدر زور سے نکلا کبھی اوہدا-ए-مور سے۔
2
बहुत दूर कोई रहा है मगर
कि फ़रियाद में है जरस शोर से
بہت دور کوئی رہتا ہے، مگر اس کی فریاد زور دار شور سے ہے۔
3
मिरी ख़ाक-ए-तफ़्ता पर ऐ अब्र-ए-तर
क़सम है तुझे टक बरस ज़ोर से
میری خاک-ए-تخت پر، اے ابر-ئے-غَم، میں قَسم کرتا ہوں کہ میں تجھ پر پوری طاقت سے برسوں۔
4
तिरे दिल-जले को रखा जिस घड़ी
धुआँ सा उठा कुछ लब-ए-गोर से
جس لمحے دل جل رہا تھا، اسی لمحے محبوب کے ہونٹوں سے دھوئیں کی طرح کچھ اٹھا۔
5
न पूछो कि बे-ए'तिबारी से मैं
हुआ उस गली में बतर चोर से
نہ پوچھو کہ بے-عتباری سے میں اس گلی میں چور کے ساتھ کیسے آ گیا۔
6
नहीं सूझता कुछ जो उस बिन हमें
बग़ैर उस के रहते हैं हम कोर से
اس کے بغیر ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا، ہم تو بس اس کے سہارے جی رہے ہیں۔
7
जो हो 'मीर' भी इस गली में सबा
बहुत पूछियो तो मिरी ओर से
اے میر، اگرچہ اس گلی میں شام کی ہوا ہے، اگر تم بہت پوچھو گے تو میری طرف سے دینے کو کچھ نہیں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
