Sukhan AI
غزل

इश्क़ में ने ख़ौफ़-ओ-ख़तर चाहिए

इश्क़ में ने ख़ौफ़-ओ-ख़तर चाहिए
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ سچے عشق کے لیے صرف جنون نہیں بلکہ خوف و خطر اور ہمت بھی چاہیے۔ اس میں سچے پیار کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے قربانی، پاکیزہ آنسو، اور ایک گہرا، پرکھنے والا نظر کی ضرورت کا ذکر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इश्क़ में ने ख़ौफ़-ओ-ख़तर चाहिए जान के देने को जिगर चाहिए
محبت میں خوف و خطر چاہیے، جان دینے کو جگر چاہیے۔
2
क़ाबिल-ए-आग़ोश सितम दीदगाँ अश्क सा पाकीज़ा गुहर चाहिए
آغوش میں لینے کے لائق، وہ نظر جو ستم دیتی ہے، آنسو کے مانند پاکیزہ جواہر کی مستحق ہے۔
3
हाल ये पहुँचा है कि अब ज़ो'फ़ से उठते पलक एक पहर चाहिए
حال یہ پہنچا ہے کہ اب زوّف سے اٹھتے پلک کو ایک پہر چاہیے۔
4
कम है शनासा-ए-ज़र-ए-दाग़-ए-दिल उस के परखने को नज़र चाहिए
دل کے سونے جیسے داغ کو جاننے کے لیے نظر کی ضرورت ہے۔
5
सैंकड़ों मरते हैं सदा फिर भी याँ वाक़ि' इक शाम-ओ-सहर चाहिए
سیکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاں، واقِعاً اک شام و سحر چاہیے. اس کا لغوی مطلب ہے کہ اگرچہ سیکنڑوں لوگ ہمیشہ مرتے رہتے ہیں، پھر بھی ہمیں بس ایک شام اور ایک صبح چاہیے۔
6
इश्क़ के आसार हैं बुल-हवस दाग़ ब-दिल-ए-दस्त बसर चाहिए
اے بل-حوس، عشق کے آثار تو ہیں، مگر دل کے زخموں کو ایک الگ جگہ پر گزر ہے۔
7
शर्त सलीक़ा है हर इक अमर में 'ऐब भी करने को हुनर चाहिए
ہر امر میں ایک طرح کی نزاکت یا فن پنہاں ہے؛ غلطی کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی ایک فن ہے۔
8
जैसे जरस पारा गुलो क्या करूँ नाला-ओ-अफ़्ग़ाँ में असर चाहिए
جیسے زرس پارہ گنگا ہے، میں کیا کروں؟ مجھے نالا او افغان جیسا اثر چاہیے۔
9
ख़ौफ़ क़यामत का यही है कि 'मीर' हम को जिया बार-ए-दिगर चाहिए
خوف قیامت کا یہی ہے کہ 'میر'، ہمیں جینا ایک الگ بارِ دیگر چاہیے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

इश्क़ में ने ख़ौफ़-ओ-ख़तर चाहिए | Sukhan AI