حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے — میر تقی میر

حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے اٹھتے پلک ایک پہر چاہیے

“The state I have reached is such that from these eyelids, I need a whole epoch to raise them.”

— میر تقی میر

معنی

حال یہ پہنچا ہے کہ اب زوّف سے اٹھتے پلک کو ایک پہر چاہیے۔

تشریح

یہ شعر شدید تھکاوٹ اور بے بسی کی عکاسی کرتا ہے۔ حال یہ ہے کہ آنکھیں کھولنا بھی ایک بڑا کام بن گیا ہے، جسے کرنے کے لیے پورا پہر درکار ہے۔ یہ محض تھکن نہیں، بلکہ روح کی مکمل تھکاوٹ کا اظہار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.