غزل

कली कहते हैं उस का सा दहन है

कली कहते हैं उस का सा दहन है
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل زندگی کے مختلف پہلوؤں اور اندرونی تجربات پر غور کرتی ہے۔ اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جو کلی (نرم پھول) نظر آتی ہے، اس کے پیچھے بھی ایک طرح کا دَھن (جَلاؤ/درد) چھپا ہے۔ یہ درد، آنسو، اور پرانے زخموں کے ذریعے زندگی کی پیچیدہ سچائیوں اور روحانی تجربات کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कली कहते हैं उस का सा दहन है सुना करिए कि ये भी इक सुख़न है
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے
کلی کہتے ہیں کہ اس کا سا دَھن ہے۔ سنا کریے کہ یہ بھی اک سُخن ہے۔
2
टपकते दर्द हैं आँसू की जागा इलाही चश्म या ज़ख़्म-ए-कुहन है
ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگا الٰہی چشم یا زخم کہن ہے
کیا یہ آنسو کی جگہ سے ٹپکتے درد ہیں، یا یہ پرانے زخم ہیں، اے الٰہی؟
3
ख़बर ले पीर-ए-कनआँ' की कि कुछ आज निपट आवारा बू-ए-पैरहन है
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج نپٹ آوارہ بوئے پیرہن ہے
شاعؔر، 'خبر لے پیر-ے-کناں' کی کہ کچھ آج / نپٹ آوارہ بو-ئے-پیرن ہے' کا لغوی مطلب ہے: اے پیر-ے-کناں، یہ خبر لے کہ آج ایک آوارہ کے لباس کی خوشبو آ رہی ہے۔
4
नहीं दामन में लाला बे-सुतूँ के कोई दिल-ए-दाग़ ख़ून-ए-कोहकन है
نہیں دامن میں لالہ بے ستوں کے کوئی دل داغ خون کوہ کن ہے
لاپا بے ستون کے دامن میں کوئی دلِ داغ، خونِ کوہکن نہیں ہے۔
5
शहादत-गाह है बाग़-ए-ज़माना कि हर गुल उस में इक ख़ूनीं-कफ़न है
شہادت گاہ ہے باغ زمانہ کہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے
یہ دنیا کا باغ شہادت گاہ ہے، کہ ہر گل اس میں ایک خونی کفن ہے۔
6
करूँ क्या हसरत-ए-गुल को वगर्ना दिल पर दाग़ भी अपना चमन है
کروں کیا حسرت گل کو وگرنہ دل پر داغ بھی اپنا چمن ہے
شاعر پوچھتا ہے کہ گل کی ہसरत کو لے کر اسے کیا کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا اپنا دل ہی ایک ایسا باغ ہے جس پر داغ لگے ہوئے ہیں۔
7
जो दे आराम टक आवारगी 'मीर' तो शाम-ए-ग़ुर्बत इक सुब्ह-ए-वतन है
جو دے آرام ٹک آوارگی میرؔ تو شام غربت اک صبح وطن ہے
جو دے آرام ٹکا آوارگی 'میر'، تو شامِ غربت اک صبحِ وطن ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.