غزل
अब के भी सैर-ए-बाग़ की जी में हवस रही
अब के भी सैर-ए-बाग़ की जी में हवस रही
یہ غزل محبت کے شدید اشتیاق اور جدائی کے گہرے جذبات کو پیش کرتی ہے۔ شاعر کا دل ابھی بھی باغ میں سیر کرنے کی خواہش رکھتا ہے، مگر وہ اپنی جگہ پر قفس کے ایک کونے کی طرح مقید ہے۔ یہ محبت کی یادوں اور تنہائی کے آنسوؤں کا ایک پُر اثر بیان ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अब के भी सैर-ए-बाग़ की जी में हवस रही
अपनी जगह बहार में कुंज-ए-क़फ़स रही
اب کے بھی سیرِ باغ کی جی میں حوس رہی۔ اپنی جگہ بہار میں کنجِ قفس رہی۔
2
मैं पा-शिकस्ता जा न सका क़ाफ़िले तलक
आती अगरचे देर सदा-ए-जरस रही
میں قافلے کے پا تک نہ جا سکا، اگرچہ گھنٹی کی آواز سدا رہے
3
लुत्फ़-ए-क़बा-ए-तंग पे गुल का बजा है नाज़
देखी नहीं है उन ने तिरी चोली चस रही
تیرے حسن کی تنگ چادر پر گل نے نزاکت سے ناز کیا ہے؛ انہوں نے کبھی تیری کمر نہیں دیکھی جو دیکھنے میں اتنی میٹھی ہے۔
4
दिन-रात मेरी आँखों से आँसू चले गए
बरसात अब के शहर में सारे बरस रही
دن رات میری آنکھوں سے آنسو بہے گئے، اور اب یہ شہر ساری بارش میں ڈوبا ہوا ہے۔
5
ख़ाली शगुफ़्तगी से जराहत नहीं कोई
हर ज़ख़्म याँ है जैसे कली हो बक्स रही
خالی شگفتی سے زَراحت نہیں کوئی، ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بک س رہی۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ دل کے خالی ہونے سے کوئی زخم نہیں ہوتا، اور ہر زخم ایک کھلتی ہوئی کلی کی مانند है۔
6
दीवानगी कहाँ कि गरेबाँ से तंग हूँ
गर्दन मिरी है तौक़ में गोया कि फँस रही
یہ دیوانگی کہاں کی کہ میں تیرے غرور سے تنگ ہوں، میری گردن ہے گویا کہ جال میں پھنس رہی۔
7
जों सुब्ह इस चमन में न हम खुल के हँस सके
फ़ुर्सत रही जो 'मीर' भी सो यक-नफ़स रही
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے، فرصت رہی جو 'میر' بھی سو یک-نفس رہی
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
