Sukhan AI
غزل

अब के भी सैर-ए-बाग़ की जी में हवस रही

अब के भी सैर-ए-बाग़ की जी में हवस रही
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل محبت کے شدید اشتیاق اور جدائی کے گہرے جذبات کو پیش کرتی ہے۔ شاعر کا دل ابھی بھی باغ میں سیر کرنے کی خواہش رکھتا ہے، مگر وہ اپنی جگہ پر قفس کے ایک کونے کی طرح مقید ہے۔ یہ محبت کی یادوں اور تنہائی کے آنسوؤں کا ایک پُر اثر بیان ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
लुत्फ़-ए-क़बा-ए-तंग पे गुल का बजा है नाज़ देखी नहीं है उन ने तिरी चोली चस रही
تیرے حسن کی تنگ چادر پر گل نے نزاکت سے ناز کیا ہے؛ انہوں نے کبھی تیری کمر نہیں دیکھی جو دیکھنے میں اتنی میٹھی ہے۔
4
दिन-रात मेरी आँखों से आँसू चले गए बरसात अब के शहर में सारे बरस रही
دن رات میری آنکھوں سے آنسو بہے گئے، اور اب یہ شہر ساری بارش میں ڈوبا ہوا ہے۔
5
ख़ाली शगुफ़्तगी से जराहत नहीं कोई हर ज़ख़्म याँ है जैसे कली हो बक्स रही
خالی شگفتی سے زَراحت نہیں کوئی، ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بک س رہی۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ دل کے خالی ہونے سے کوئی زخم نہیں ہوتا، اور ہر زخم ایک کھلتی ہوئی کلی کی مانند है۔
6
दीवानगी कहाँ कि गरेबाँ से तंग हूँ गर्दन मिरी है तौक़ में गोया कि फँस रही
یہ دیوانگی کہاں کی کہ میں تیرے غرور سے تنگ ہوں، میری گردن ہے گویا کہ جال میں پھنس رہی۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

अब के भी सैर-ए-बाग़ की जी में हवस रही | Sukhan AI