غزل
गर्म हैं शोर से तुझ हुस्न के बाज़ार कई
गर्म हैं शोर से तुझ हुस्न के बाज़ार कई
یہ غزل محبوب کے حسن کے بازار کی رونق اور اس کے جادوئی شور کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس حسن کی وجہ سے کئی چیزیں اور لوگ حسد سے جلتے ہیں۔ اس میں تنہائی کا خوف اور یادوں کے سائے بھی شامل ہیں، جو ایک گہری جذباتی الجھن کو ظاہر کرتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गर्म हैं शोर से तुझ हुस्न के बाज़ार कई
रश्क से जलते हैं यूसुफ़ के ख़रीदार कई
تیری حُسن کی بازار میں بہت شور ہے؛ اور یوسف کے بہت خریدار حسد سے جلتے ہیں۔
2
कब तलक दाग़ दिखावेगी असीरी मुझ को
मर गए साथ के मेरे तो गिरफ़्तार कई
یہ قیدنی مجھ کو کب تک داغ دکھائے گی؟ میرے ساتھ کئی ساتھی مر گئے ہیں، اور وہ قیدی ہیں۔
3
वे ही चालाकियाँ हाथों की हैं जो अव्वल थीं
अब गरेबाँ में मिरे रह गए हैं तार कई
پہلے ہاتھوں کی چال ہی کمال تھی، اب گلے میں کئی تار رہ گئی ہیں۔
4
ख़ौफ़-ए-तन्हाई नहीं कर तू जहाँ से तो सफ़र
हर जगह राह-ए-अदम में मिलेंगे यार कई
تنہائی سے خوف نہ کر کہ جہاں سے بھی سفر کرنا، ہر جگہ 'راہِ عدم' میں کئی دوست ملیں گے۔
5
इज़तिराब-ओ-क़िल्क़-ओ-ज़ोफ़ में किस तौर जियूँ
जान वाहिद है मिरी और हैं आज़ार कई
بے چینی، فکر اور غم کی حالت میں میں کیسے جیوں؟ میری جان تو ایک ہے، مگر میرے دکھ بہت ہیں۔
6
क्यूँ न हूँ ख़स्ता भला मैं कि सितम के तेरे
तीर हैं पार कई वार हैं सोफ़ार कई
میں بھلا کیوں نہ ہوں، جب تمہارے ستم کے تیر بار گنے ہیں۔
7
अपने कूचे में निकलयो तो सँभाले दामन
यादगार-ए-मिज़ा-ए-'मीर' हैं वाँ ख़ार कई
جب تم اپنے گلی میں نکلے گا تو وہاں کئی کانٹے ہوں گے، جو میر کے مزاج کی یاد دلاتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
