غزل
अब ज़ोफ़ से ढहता है बेताबी शिताबी की
अब ज़ोफ़ से ढहता है बेताबी शिताबी की
یہ غزل بے تابی اور شتابی کے ڈھہ جانے کے جذبے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں زندگی کے جذباتی اور ذہنی انتشار کا ذکر ہے، جہاں دل کا تڑپنا اور تنہائی ایک طرح کی خرابی لاتا ہے۔ شاعر محفلِ مشتاقوں میں عشق اور چاہت کے گہرے تجربات کو پیش کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
अब ज़ोफ़ से ढहता है बेताबी शिताबी की
उस दिल के तड़पने ने क्या ख़ाना-ख़राबी की
اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی
اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی
اب زوف سے ڈھحتا ہے بےتابی شتابی کی، اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ-خرابی کی. اس شعر کا مطلب ہے کہ بے چینی اور بے قرار ہونا اب اتنی آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے کہ اس دل کی تڑپ نے کیا نقصان پہنچایا ہے۔
2
उन दरस-गहों में वो आया न नज़र हम को
क्या नक़ल करूँ ख़ूबी उस चेहरा किताबी की
ان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کو
کیا نقل کروں خوبی اس چہرہ کتابی کی
ان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کو، کیا نقل کروں خوبی اُس چہرہ کتابی کی
3
भुनते हैं दिल इक जानिब सकते हैं जिगर यकसू
है मज्लिस-ए-मुश्ताक़ाँ दुकान कबाबी की
بھنتے ہیں دل اک جانب سکتے ہیں جگر یکسو
ہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی
دل ایک طرف سے جل رہا ہے اور جگر دوسری طرف سے بے قرار ہے، جب مُشتاقوں کی محفل میں کباب کی دکان ہے۔
4
तल्ख़ उस लब-ए-मय-गूँ से सब सुनते हैं किस ख़ातिर
तह-दार नहीं होती गुफ़्तार शराबी की
تلخ اس لب میگوں سے سب سنتے ہیں کس خاطر
تہہ دار نہیں ہوتی گفتار شرابی کی
تَلْخ اُس لَب-ے مَیْ-گُوں سے سب سُنتے ہیں کس خاطر، تہ-دار نہیں ہوتی گُفتاڑ شَرابِی کی
5
यक बू कुशी बुलबुल है मौजिब-ए-सद-मस्ती
पुर-ज़ोर है क्या दारू ग़ुंचे की गुलाबी की
یک بو کشی بلبل ہے موجب صد مستی
پر زور ہے کیا دارو غنچے کی گلابی کی
اے شبنم کی طرح چمن کا بلبل ہے، جو نشہ آور ہے۔ کیا کلی کی گلابی شراب اتنی زبردست ہے؟
6
अब सोज़-ए-मोहब्बत से सारे जो फफोले हैं
है शक्ल मिरे दिल की सब शीशा हबाबी की
اب سوز محبت سے سارے جو پھپھولے ہیں
ہے شکل مرے دل کی سب شیشہ حبابی کی
اب سوزِ محبت سے سارے جو پھوڑے ہیں، ہے شکل میرے دل کی سب شیشہ حبابی کی۔
7
नश-मुर्दा मिरे मुँह से याँ हर्फ़ नहीं निकला
जो बात कि मैं ने की सो 'मीर' हिसाबी की
نش مردہ مرے منہ سے یاں حرف نہیں نکلا
جو بات کہ میں نے کی سو میرؔ حسابی کی
نَشّ-مُردہ میرے منہ سے یاں حرف نہیں نکلا، جو بات کہ میں نے کی، سو 'میر' حساب کی تھی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
