غزل

मैं ने जो बे-कसाना मज्लिस में जान खोई

मैं ने जो बे-कसाना मज्लिस में जान खोई
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک ایسی مجلس کا بیان ہے جہاں شاعر نے اپنی جان گنوائی۔ اس میں محفل کے چمک دمک اور پراسرار ماحول میں عشق کی شدید جذبات اور تڑپ کا اظہار کیا گیا ہے۔ شاعر یہ کہتا ہے کہ محبوب کا ایک اشارہ یا لمحہ ہی اس کے وجود کو ڈبو دینے کے لیے کافی تھا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
मैं ने जो बे-कसाना मज्लिस में जान खोई सर पर मिरे खड़ी हो शब शम्अ' ज़ोर रवी
میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی سر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روی
میں نے جو بے کساں محفل میں جان کھوئی، وہ میرے سر پر جلتی شمع ہے، جو سورج کی طاقت سے روشن ہے۔
2
आती है शम्अ' शब को आगे तिरे ये कह कर मुँह की गई जो लोई तो क्या करेगा कोई
آتی ہے شمع شب کو آگے ترے یہ کہہ کر منہ کی گئی جو لوئی تو کیا کرے گا کوئی
جیسے شمع رات کو آگے بڑھنے کو کہتی ہے، اگر میں اپنا منہ چوٹ پہنچا دوں تو کوئی کیا کرے گا؟
3
बे-ताक़ती से आगे कुछ पूछता भी था सो रोने ने हर घड़ी के वो बात ही डुबोई
بے طاقتی سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سو رونے نے ہر گھڑی کے وہ بات ہی ڈبوئی
بے-طاقت سے آگے کچھ پوچھنے کی ہمت رکھتا تھا، مگر آنسوؤں نے ہر لمحے وہ بات ہی ڈبو دی۔
4
बुलबुल की बेकली ने शब बे-दिमाग़ रखा सोने दिया न हम को ज़ालिम न आप सोई
بلبل کی بیکلی نے شب بے دماغ رکھا سونے دیا نہ ہم کو ظالم نہ آپ سوئی
بُلبُل کی بکلی نے شب بے دماغ رکھا، اور نہ آپ، ظالم، سو سکے۔
5
उस ज़ुल्म पेशा की ये रस्म-ए-क़दीम है गी ग़ैरों पे मेहरबानी यारों से कीना-जूई
شاعِر کہتا ہے کہ آپ کے اس ظُلم کے پیشے کی یہ رَسمِ قَدیم ہے کہ غیروں پر مہربانی اور یاروں سے بھی بکا جائے۔
6
नौबत जो हम से गाहे आती है गुफ़्तुगू की मुँह में ज़बाँ नहीं है इस बद-ज़बाँ के गोई
جو بات تم سے کرنے کا موقع ملتا ہے، اس کی آواز ایسی ہوتی ہے کہ اس بدزبان کے پاس کوئی اور بات کہنے کا انداز نہیں بچتا۔
7
उस मह के जल्वे से कुछ ता 'मीर' याद देवे अब के घरों में हम ने सब चाँदनी है बोई
اس مح کے جلوے سے کچھ تا 'میر' یاد دے گئے، اور اب ہم نے سب گھروں میں چاندنی بکھیر دی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.