غزل
ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की
ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की
یہ غزل دل کی عمارت کی خراب حالت کا بیان کرتی ہے، جو غموں اور محفل کے نظاروں سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبت کی مے اور مے خانے کی بنیاد بھی اسی طرح کمزور ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جس طرح کسی مست نے نور سے اشارہ کیا، اسی طرح محفل کے لوگوں نے بھی ان سے شرارت کی۔
نغمہ سنیں
1
ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की
ग़मों ने आज-कल सुनियो वो आबादी ही ग़ारत की
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی
غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی
دل کی عمارت کی خرابی کے بارے میں نہ پوچھو، غموں نے آج کل تو اس کی آبادی کو ہی ویران کر دیا ہے۔
2
निगाह-ए-मस्त से जब चश्म ने इस की इशारत की
हलावत मय की और बुनियाद मयख़ाने की ग़ारत की
نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی
حلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی
جب مست نظر سے چشم نے اس کی اشارت کی، تو اس نے حلاوت مے کی اور بنیاد مے خانے کی گارت کی۔
3
सहर-गह मैं ने पूछा गुल से हाल-ए-ज़ार बुलबुल का
पड़े थे बाग़ में यक-मुशत पर ऊधर इशारत की
سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا
پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی
سحر گہ میں نے پھول سے بلبل کی تنہائی کا حال پوچھا، تو اس نے کہا کہ باغ میں ایک وقف فرد کی طرف اشارہ کیا۔
4
जलाया जिस तजल्ली-ए-जल्वा-गर ने तूर को हम-दम
उसी आतिश के पर काले ने हम से भी शरारत की
جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم
اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی
جس تجلّی-اے-جلوہ گر نے تُر کو ہمدم، / اسی آتِش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی
5
नज़ाकत क्या कहूँ ख़ुर्शीद-रू की कल शब-ए-मह में
गया था साए साए बाग़ तक तिस पर हरारत की
نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میں
گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی
میں سورج کے چہرے کی نزاکت کیا کہوں، چاند کی رات میں، / کہ وہ باغ تک قدم بہ قدم حرارت لایا تھا۔
6
नज़र से जिस की यूसुफ़ सा गया फिर उस को क्या सूझे
हक़ीक़त कुछ न पूछो पीर-ए-कनआँ' की बसारत की
نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھے
حقیقت کچھ نہ پوچھو پیر کنعاں کی بصارت کی
جس کی نظر سے جو یوسف سا گیا، پھر اُسے کیا سوچے گا؟ حقیقت کچھ نہ پوچھو پیر-اے-کنواں کی بصارت کی।
7
तिरे कूचे के शौक़-ए-तौफ़ में जैसे बगूला था
बयाबाँ मैं ग़ुबार 'मीर' की हम ने ज़ियारत की
ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھا
بیاباں میں غبار میرؔ کی ہم نے زیارت کی
تیرے کوچے کے شوقِ طوف میں جیسے بگولا تھا، بیابان میں غبار ’میر‘ کی ہم نے زیارت کی
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
