Sukhan AI
غزل

ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की

ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل دل کی عمارت کی خراب حالت کا بیان کرتی ہے، جو غموں اور محفل کے نظاروں سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبت کی مے اور مے خانے کی بنیاد بھی اسی طرح کمزور ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جس طرح کسی مست نے نور سے اشارہ کیا، اسی طرح محفل کے لوگوں نے بھی ان سے شرارت کی۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़राबी कुछ पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की ग़मों ने आज-कल सुनियो वो आबादी ही ग़ारत की
دل کی عمارت کی خرابی کے بارے میں نہ پوچھو، غموں نے آج کل تو اس کی آبادی کو ہی ویران کر دیا ہے۔
2
निगाह-ए-मस्त से जब चश्म ने इस की इशारत की हलावत मय की और बुनियाद मयख़ाने की ग़ारत की
جب مست نظر سے چشم نے اس کی اشارت کی، تو اس نے حلاوت مے کی اور بنیاد مے خانے کی گارت کی۔
3
सहर-गह मैं ने पूछा गुल से हाल-ए-ज़ार बुलबुल का पड़े थे बाग़ में यक-मुशत पर ऊधर इशारत की
سحر گہ میں نے پھول سے بلبل کی تنہائی کا حال پوچھا، تو اس نے کہا کہ باغ میں ایک وقف فرد کی طرف اشارہ کیا۔
4
जलाया जिस तजल्ली-ए-जल्वा-गर ने तूर को हम-दम उसी आतिश के पर काले ने हम से भी शरारत की
جس تجلّی-اے-جلوہ گر نے تُر کو ہمدم، / اسی آتِش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی
5
नज़ाकत क्या कहूँ ख़ुर्शीद-रू की कल शब-ए-मह में गया था साए साए बाग़ तक तिस पर हरारत की
میں سورج کے چہرے کی نزاکت کیا کہوں، چاند کی رات میں، / کہ وہ باغ تک قدم بہ قدم حرارت لایا تھا۔
6
नज़र से जिस की यूसुफ़ सा गया फिर उस को क्या सूझे हक़ीक़त कुछ पूछो पीर-ए-कनआँ' की बसारत की
جس کی نظر سے جو یوسف سا گیا، پھر اُسے کیا سوچے گا؟ حقیقت کچھ نہ پوچھو پیر-اے-کنواں کی بصارت کی।
7
तिरे कूचे के शौक़-ए-तौफ़ में जैसे बगूला था बयाबाँ मैं ग़ुबार 'मीर' की हम ने ज़ियारत की
تیرے کوچے کے شوقِ طوف میں جیسے بگولا تھا، بیابان میں غبار ’میر‘ کی ہم نے زیارت کی
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की | Sukhan AI