ख़राबी कुछ न पूछो मुलकत-ए-दिल की इमारत की
ग़मों ने आज-कल सुनियो वो आबादी ही ग़ारत की
“Do not ask about the ruin of the structure of the heart, The sorrows have today rendered even its population desolate.”
— میر تقی میر
معنی
دل کی عمارت کی خرابی کے بارے میں نہ پوچھو، غموں نے آج کل تو اس کی آبادی کو ہی ویران کر دیا ہے۔
تشریح
یہ شعر دل کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے جہاں زخم صرف جسمانی نہیں، بلکہ روح کی مکمل تباہی ہو چکی ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ میرے دل کے اندر کی جو زندگی، جو نبات تھی، وہ غموں نے مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔
1 / 7Next →
