Sukhan AI
غزل

गरचे कब देखते हो पर देखो

गरचे कब देखते हो पर देखो
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبوب سے ایک گزارش ہے، جو ہر لمحے کی خوبصورتی دیکھنے کا کہتا ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ عشق اور آرزو زندگی میں کئی رنگ دکھاتی ہیں، اور ہر چیز میں ایک منفرد حسن ہے جسے دیکھنا ضروری ہے۔ یہ غزل زندگی کی عارضی خوبصورتی اور عشق کے گہرے تجربے پر روشنی ڈالتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गरचे कब देखते हो पर देखो आरज़ू है कि तुम इधर देखो
اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ آپ دیکھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن دیکھیں، میری آرزو ہے کہ آپ ادھر کی طرف دیکھیں۔
2
इश्क़ क्या क्या हमें दिखाता है आह तुम भी तो इक नज़र देखो
عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے، آہ تم بھی تو اک نظر دیکھو۔
3
यूँ अरक़ जल्वा-गर है उस मुँह पर जिस तरह ओस फूल पर देखो
اس چہرے پر جو نشہ یا نوری چمک ہے، وہ پھول پر پڑی شبنم کی مانند ہے۔
4
हर ख़राश-ए-जबीं जराहत है नाख़ुन-ए-शौक़ का हुनर देखो
ہر خراشِ جبین زِراحت ہے / ناخنِ شوق کا ہنر دیکھو
5
थी हमें आरज़ू लब-ए-ख़ंदाँ सो एवज़ उस के चश्म-ए-तर देखो
ہمیں ہنسنے والے کے لبوں کی آرزو تھی، مگر ان کے آنسوؤں بھرے چشمے دیکھنا زیادہ قیمتی ہے۔
6
रंग-रफ़्ता भी दिल को खींचे है एक शब और याँ सहर देखो
رنگ-رَفٹا بھی دل کو کھینچے ہے، یہ کہتا ہے کہ اگرچہ رنگ پھیکے ہو جائیں گے، پھر بھی یہ دل کو کھینچتا ہے؛ ایک اور شب اور ایک سحر دیکھنے کو کہتا ہے۔
7
दिल हुआ है तरफ़ मोहब्बत का ख़ून के क़तरे का जिगर देखो
دل ہوا ہے طرفہ محبت کا، خون کے قطرے کا جگر دیکھو۔
8
पहुँचे हैं हम क़रीब मरने के या'नी जाते हैं दूर अगर देखो
ہم موت کے قریب پہنچ گئے ہیں، یا اگر ہم دیکھیں تو دور جا رہے ہیں۔
9
लुत्फ़ मुझ में भी हैं हज़ारों 'मीर' दीदनी हूँ जो सोच कर देखो
میر، مجھ میں بھی ہزاروں لطف ہیں؛ بس سوچ کر دیکھ لو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.