غزل

बज़्म में जो तिरा ज़ुहूर नहीं

बज़्म में जो तिरा ज़ुहूर नहीं
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک ایسی محفل کی بات کرتی ہے جہاں محبوب کا جلوہ نہیں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی روشنی کے بغیر، یہ محفل بے نور ہے۔ وہ اپنی بےباسی یا یادوں کے جھوٹے سہارے پر جینا نہیں چاہتا، بلکہ اس درد کو قبول کرنے میں ہی ایک عجیب راحت کا احساس کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
बज़्म में जो तिरा ज़ुहूर नहीं शम-ए-रौशन के मुँह पे नूर नहीं
بزم میں جو ترا ظہور نہیں شمع روشن کے منہ پہ نور نہیں
جماعت میں تیرا ظاہر نہ ہونا، روشن چراغ کے منہ پر نور نہیں۔
2
कितनी बातें बना के लाऊँ एक याद रहती तिरे हुज़ूर नहीं
کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک یاد رہتی ترے حضور نہیں
اس کا مطلب ہے کہ میں آپ کے لیے کتنی بھی باتیں سجا کر لاؤں، مگر مجھے صرف آپ کی یاد رہتی ہے۔
3
ख़ूब पहचानता हूँ तेरे तईं इतना भी तो मैं बे-शुऊर नहीं
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
میں تمہارے ارادے بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں اتنا بھی بے خبر نہیں ہوں۔
4
क़त्ल ही कर कि उस में राहत है लाज़िम उस काम में मुरूर नहीं
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے لازم اس کام میں مرور نہیں
उसे मार दो, क्योंकि उसमें राहत है; उस काम में भटकना ज़रूरी नहीं है।
5
फ़िक्र मत कर हमारे जीने का तेरे नज़दीक कुछ ये दूर नहीं
فکر مت کر ہمارے جینے کا تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
اس کا مطلب ہے کہ میرے جینے کے بارے میں فکر نہ کرو، کیونکہ تیرے قریب کچھ بھی دور نہیں ہے۔
6
फिर जिएँगे जो तुझ सा है जाँ-बख़्श ऐसा जीना हमें ज़रूर नहीं
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
فُر جِیئیں گے جو تجھ سا ہے جان بخش، ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں ۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ اگرچہ ہم دوبارہ زندگی گزاریں گے، لیکن ہم آپ کی طرح زندگی نہیں گزار پائیں گے۔
7
आम है यार की तजल्ली 'मीर' ख़ास मूसा व कोह-ए-तूर नहीं
عام ہے یار کی تجلی میرؔ خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
میر کہتے ہیں کہ میرے یار کی تجلی عام ہے، وہ نہ موسیٰ ہیں اور نہ کوہِ طور۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.