غزل

खोवें हैं नींद मेरी मुसीबत बयानीयाँ

खोवें हैं नींद मेरी मुसीबत बयानीयाँ
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل نیند کو کھو دینے کے غم اور زندگی کی مصیبتوں سے بھری کہانیوں کا بیان ہے۔ اس میں محبوب کے ناز و اداؤں اور بے وفائی کی یادوں سے دل ٹوٹنے کا دکھ بیان کیا گیا ہے۔ شاعر اپنی محبت کی یادوں اور تڑپ کو بیان کرتے ہوئے، زندگی کی بے م顿ی پر آہ بھرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
खोवें हैं नींद मेरी मुसीबत बयानीयाँ तुम भी तो एक रात सुनो ये कहानियाँ
کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں تم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں
میری نیند پریشانیوں کی باتوں سے کھو گئی ہے، تم بھی تو ایک رات یہ کہانیاں سنو۔
2
क्या आग दे के तौर को की तर्क सर-कशी उस शो'ले की वही हैं शरारत की बानीयाँ
کیا آگ دے کے طور کو کی ترک سرکشی اس شعلے کی وہی ہیں شرارت کی بانیاں
کس آگ نے طور کو منطق اور تروتازگی دی؟ وہ تو اس شعلے کی شرارت بھری باتیں ہیں۔
3
सोहबत रखा किया वो सफिया-ओ-ज़लाल से दिल ही में ख़ूँ हुआ कीं मिरी नुक्ता-दानियाँ
صحبت رکھا کیا وہ سفیہ و ضلال سے دل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں
اس نے صفیہ اور زلال کی شان سے صحبت کی، میرے نکتہ دانیے دل میں خون ہو گیا۔
4
हम से तो कीने ही की अदाएँ चली गईं बे-लुत्फ़ियाँ यही यही ना-मेहरबानियाँ
ہم سے تو کینے ہی کی ادائیں چلی گئیں بے لطفیاں یہی یہی نا‌ مہربانیاں
ہم سے تو کہنی ہی کی ادائیں چلی گئیں، بے لطفیاں یہی یہی نا مہربانیان۔
5
तलवार के तले ही गया अहद-ए-इम्बिसात मर मर के हम ने काटी हैं अपनी जवानियाँ
تلوار کے تلے ہی گیا عہد انبساط مر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیاں
تلوار کے تلے ہی گیا عہدِ اِمبِساط؛ مر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیयाँ۔
6
गाली सिवाए मुझ से सुख़न मत किया करो अच्छी लगे हैं मुझ को तिरी बद-ज़बानियाँ
گالی سوائے مجھ سے سخن مت کیا کرو اچھی لگے ہیں مجھ کو تری بد زبانیاں
مجھ سے گالی کے سوا کچھ اور بات مت کرنا؛ مجھے تمہاری بد زبانیاں اچھی لگتی ہیں۔
7
ग़ैरों ही के सुख़न की तरफ़ गोश-ए-यार थे इस हर्फ़-ए-ना-शिनो ने हमारी न मानियां
غیروں ہی کے سخن کی طرف گوش یار تھے اس حرف ناشنو نے ہماری نہ مانیاں
گٔیروں ہی کے سخن کی طرف گوشِ یار تھے، اس حرفِ نَ-ش نے ہماری نہ مانی۔
8
ये बे-क़रारियाँ न कभू इन नय-देखीयाँ जाँ-काहीयाँ हमारी बहुत सहल जानियाँ
یہ بے قراریاں نہ کبھو ان نے دیکھیاں جاں کاہیاں ہماری بہت سہل جانیاں
یہ بے قراریاں اور یہ نئی دیکھییاں ہماری جانوں نے بہت سہلی ہیں۔
9
मारा मुझे भी सान के ग़ैरों में उन ने 'मीर' क्या ख़ाक में मिलाईं मिरी जाँ-फ़िशानीयाँ
مارا مجھے بھی سان کے غیروں میں ان نے میرؔ کیا خاک میں ملائیں مری جاں فشانیاں
شاعر کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بھی اجنبیوں کے درمیان ملا دیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ میری جان کی منفرد پہچان کو کس طرح کی خاک میں ملا دیا گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.