غزل

दा'वे को यार आगे मायूब कर चुके हैं

दा'वे को यार आगे मायूब कर चुके हैं
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل محبت اور اس کے مطالبات کے حوالے سے ایک پُر اعتماد اور طنزیہ لہجہ پیش کرتی ہے۔ شاعر کا دعویٰ ہے کہ وہ محبت کے مطالبات کو پورا کر چکے ہیں اور اس رشتہ کو اچھی طرح سنبھال چکے ہیں۔ اس میں ایک چیلنجنگ انداز بھی ہے کہ اگر محبت نے دھوکہ دیا تو اس کے نتائج بھی سنگین ہوں گے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
दा'वे को यार आगे मायूब कर चुके हैं इस रेख़्ते को वर्ना हम ख़ूब कर चुके हैं
دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کر چکے ہیں
داؤے کو یار آگے مایوب کر چکے ہیں، اِس رِشتے کو ورنہ ہم خوب کر چکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ محبوب نے پہلے ہی محبت کا وعدہ کیا ہے، اور اگر اس رشتے کو نہیں نبھایا گیا تو ہم بہت پریشان ہو جائیں گے۔
2
मरने से तुम हमारे ख़ातिर नचंत रखियो उस काम का भी हम कुछ उस्लूब कर चुके हैं
مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو اس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کر چکے ہیں
مرنے سے تم ہمارے خاطر نہ چنتے رکھیو، اُس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کر چکے ہیں۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ میرے لیے، مرنے کے بعد بھی تم ناچنا مت چھوڑنا؛ ہم اس عمل کے لیے بھی کچھ انداز (طریقہ) سیکھ چکے ہیں۔
3
हुस्न-ए-कलाम खींचे क्यूँकर न दामन-ए-दिल इस काम को हम आख़िर महबूब कर चुके हैं
حسن کلام کھینچے کیوں کر نہ دامن دل اس کام کو ہم آخر محبوب کر چکے ہیں
حُسنِ کلام سے دل کا پُردامن کیسے نہ کھینچے؟ یہ کام، اے محبوب، ہمیں آخِیر ہو گیا ہے۔
4
हंगामा-ए-क़यामत ताज़ा नहीं जो होगा हम इस तरह के कितने आशोब कर चुके हैं
ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہوگا ہم اس طرح کے کتنے آشوب کر چکے ہیں
हंगामा-ए-क़यामत, اگر آئے گا تو نیا نہیں ہوگا، ہم اس طرح کے کتنے عُصْب ہو چکے ہیں۔
5
रंग-ए-परीदा क़ासिद बाद-ए-सहर कबूतर किस किस के हम हवाले मक्तूब कर चुके हैं
رنگ پریدہ قاصد باد سحر کبوتر کس کس کے ہم حوالے مکتوب کر چکے ہیں
پری کا رنگ، صبح کی ہوا کا قاصد، کبوتر۔ ہم یہ خط کس کس کو لکھ چکے ہیں۔
6
तिनका नहीं रहा है क्या अब निसार करिए आगे ही हम तो घर को जारूब कर चुके हैं
تنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریے آگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کر چکے ہیں
کیا تِنکا نہیں رہا ہے کیا اب نِثار کریے آگے ہی ہم تو گھر کو جَرُوب کر چکے ہیں
7
हर लहज़ा है तज़ायुद रंज-ओ-ग़म-ओ-अलम का ग़ालिब कि तबा-ए-दिल को मग़्लूब कर चुके हैं
ہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کا غالب کہ طبع دل کو مغلوب کر چکے ہیں
ہر لفظ میں رنج، غم اور درد کا تزا یُد ہے، غالیب نے تبائے دل کو بھی مغلوب کر دیا ہے۔
8
क्या जानिए कि क्या है ऐ 'मीर' वज्ह ज़िद की सौ बार हम तो उस को महजूब कर चुके हैं
کیا جانیے کہ کیا ہے اے میرؔ وجہ ضد کی سو بار ہم تو اس کو محجوب کر چکے ہیں
اے میر، تجھے اس زिद کی وجہ کیا خبر؟ ہم نے اسے سو بار شرمندہ کر دیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.