हुस्न-ए-कलाम खींचे क्यूँकर न दामन-ए-दिल
इस काम को हम आख़िर महबूब कर चुके हैं
“How can the charm of speech not pull the hem of the heart? This pursuit, my beloved, we have become accustomed to.”
— میر تقی میر
معنی
حُسنِ کلام سے دل کا پُردامن کیسے نہ کھینچے؟ یہ کام، اے محبوب، ہمیں آخِیر ہو گیا ہے۔
تشریح
یہ شعر محبوب کے کلام کی تاثیر کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ الفاظ کی خوبصورتی دل کے پردے کو کیسے کھینچتی ہے۔ اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ عشق کی عادت، یہ بات کرنا.... اب ان کے لیے ایک محبوب معمول بن چکی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
