हंगामा-ए-क़यामत ताज़ा नहीं जो होगा
हम इस तरह के कितने आशोब कर चुके हैं
“The clamor of the apocalypse, if it comes, will not be new, We have endured so many such upheavals.”
— میر تقی میر
معنی
हंगामा-ए-क़यामत, اگر آئے گا تو نیا نہیں ہوگا، ہم اس طرح کے کتنے عُصْب ہو چکے ہیں۔
تشریح
یہ شعر انسانی صبر اور استقامت کی بات کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ قیامت کا ہنگامہ کوئی نئی چیز نہیں جو ہو گی۔ ہم تو پہلے ہی کئی طرح کے آفتاب سہہ چکے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
