غزل

निकले है चश्मा जो कोई जोश-ए-ज़नाँ पानी का

निकले है चश्मा जो कोई जोश-ए-ज़नाँ पानी का
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک طرح سے ایک شاعرانہ اور جذباتی مشاہدہ پیش کرتی ہے، جس میں 'چشما' کو زندگی کے پیچیدہ اور جذباتی پہلوؤں کے مظہر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خوبصورتی، عقیدے اور انسانی جذبات کے امتزاج پر غور کرتی ہے، جو وجود کے ایک فکری نظارے کی عکاسی کرتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
निकले है चश्मा जो कोई जोश-ए-ज़नाँ पानी का याद-दह है वो कसो चश्म की गिर्यानी का
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا یاد دہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
جب کوئی جوشِ زنان پانی کا نکلے ہے، تو یاد دہ ہے وہ کسو چشم کی گریہانی کا۔
2
लुत्फ़ अगर ये है बुताँ संदल पेशानी का हुस्न क्या सुब्ह के फिर चेहरा-ए-नूरानी का
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا حسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا
اگر یہ خوشبودار چنبیلی کی مہک ہی ہے، تو صبح کے نورانی چہرے کی خوبصورتی کیا ہوگی۔
3
कुफ़्र कुछ चाहिए इस्लाम की रौनक़ के लिए हुस्न ज़ुन्नार है तस्बीह-ए-सुलैमानी का
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
اسلام کی رونق کے لیے کچھ کفر چاہیے، اور یہ تسبیحِ سلیمان کا حسن ہے۔
4
दरहमी हाल की है सारे मिरे दीवाँ में सैर कर तू भी ये मजमूआ' परेशानी का
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
मेरे पूरे दीवान में मेरे दिल की हालत है؛ तुम भी इस परेशानी के संग्रह में घूमकर देखो।
5
जान घबराती है अंदोह से तन में क्या क्या तंग अहवाल है उस यूसुफ़-ए-ज़िंदानी का
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے، تن میں کیا کیا تنگ ہے، اُس یوسفِ زندانی کا۔
6
खेल लड़कों का समझते थे मोहब्बत के तईं है बड़ा हैफ़ हमें अपनी भी नादानी का
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
شاعر کہتے ہیں کہ وہ لڑکوں کے کھیل کو محبت کے سچے معنی سمجھنا سمجھتے تھے، مگر اب انہیں اپنی نادانی بہت بڑی لگتی ہے۔
7
वो भी जाने कि लहू रो के लिखा है मक्तूब हम ने सर नामा किया काग़ज़ अफ़्शानी का
وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا
وہ بھی جانے کہ یہ مکتوب خون کے آنسوؤں سے لکھا گیا ہے، اور ہم نے کہانیوں کے کاغذ پر اپنا نام لکھ دیا۔
8
उस का मुँह देख रहा हूँ सो वही देखूँ हूँ नक़्श का सा है समाँ मेरी भी हैरानी का
اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
جس کا منہ میں دیکھ رہا ہوں وہ وہی دیکھ رہا ہوں، میرے بھی حیرانی کا سمان کسی نقش جیسا ہے۔
9
बुत-परस्ती को तो इस्लाम नहीं कहते हैं मो'तक़िद कौन है 'मीर' ऐसी मुसलमानी का
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا
اشعار میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر بت پرستی کو اسلام نہیں کہتا، تو ایسے مسلمان کا ماننے والا کون ہے، اے میر۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.