غزل

मौसम-ए-गुल आया है यारो कुछ मेरी तदबीर करो

मौसम-ए-गुल आया है यारो कुछ मेरी तदबीर करो
میر تقی میر· Ghazal· 6 shers

یہ غزل محبوب کے آمد اور عشق کے موسم کا بیان ہے، جس میں شاعر سے اپنے جذبات کی حالت سنبھالنے کی التجا کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ عشق کے ماحول میں قید ہونا چاہتا ہے، اور اسے اپنی حالت پر کوئی تقریر یا بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ شاعر مزید یہ کہتا ہے کہ لوگوں کے دلوں پر مالک نے جو فضل کیا ہے، اس میں سے بھی وہ کچھ چاہتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کا غم و نالہ بھی لوگوں کے دلوں کو چھو لے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मौसम-ए-गुल आया है यारो कुछ मेरी तदबीर करो यानी साया-ए-सर्व-ओ-गुल में अब मुझ को ज़ंजीर करो
یاروں، کیا موسمِ گل آ گیا ہے؟ کچھ میری تدبیر کرو۔ یا کہوں کہ، سائےِ سر و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو।
2
पेश-ए-सआयत क्या जाए है हक़ है मेरी तरफ़ सो है मैं तो चुप बैठा हूँ यकसू गर कोई तक़रीर करो
پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے میں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو
پیش-ए-ساعیّت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے۔ میں تو چپ بیٹھا ہوں، یکسو گر کوئی تقریر کرو۔
3
कान लगा रहता है ग़ैर उस शोख़ कमाँ अबरू के बहुत इस तो गुनाह-ए-अज़ीम पे यारो नाक में उस की तीर करो
کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہت اس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو
شاعر کہتا ہے کہ کسی اجنبی کے خوبصورت اور شرارتی کمان پر بہت توجہ جاتی ہے، لیکن اس بڑے گناہ کے لیے دوستو، اس کی ناک میں تیر مار دو۔
4
फेर दिए हैं दिल लोगों के मालिक ने कुछ मेरी तरफ़ तुम भी टुक ऐ आह-ओ-नाला क़ल्बों में तासीर करो
پھیر دئیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرف تم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو
لوگوں کے مالک نے میرے دل کا رخ بدل دیا ہے؛ تم بھی آہ و نلا کی تاثیر میرے دل پر کرو۔
5
आगे ही आज़ुर्दा हैं हम दिल हैं शिकस्ता हमारे सब हर्फ़-ए-रंजिश बीच में ला कर और न अब दिल-गीर करो
آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سب حرف رنجش بیچ میں لا کر اور نہ اب دلگیر کرو
ہم پہلے ہی آزردہ ہیں اور ہمارے سارے دل شکستہ ہیں۔ اب رنجش کی باتیں بیچ میں لا کر ہمیں مزید دل گیر نہ کرو۔
6
शेर किए मौज़ूँ तो ऐसे जिन से ख़ुश हैं साहिब-ए-दिल रोवें कुढ़ें जो याद करें अब ऐसा तुम कुछ 'मीर' करो
شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دل روویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میرؔ کرو
اگر آپ ایسے شعر کریں جن سے صاحبِ دل خوش ہوں، یا ایسے شعر کریں کہ ہمیں یاد کر کے رونا اور کرب ہو، تو میؔر، کچھ ایسا کیجیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.