غزل
मानिंद-ए-शम्मा-मजलिस शब अश्क-बार पाया
मानिंद-ए-शम्मा-मजलिस शब अश्क-बार पाया
یہ غزل جدائی کے شدید دکھ اور یادوں کے گہرے تجربے کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے महفل میں آنسو بہاتے ہوئے یہ محسوس کیا ہے کہ زندگی میں سچا اور مستحکم سکون پانا بہت مشکل ہے۔ یہ غزل دل کی اداسی اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کے دکھ کی عکاسی کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
मानिंद-ए-शम्मा-मजलिस शब अश्क-बार पाया
अल-क़िस्सा 'मीर' को हम बे-इख़्तियार पाया
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
مہفل میں، آنکھوں کے شمع جیسے، آنسو ملے۔ اے میر، ہمیں کہانی بنا کسی اختیار کے ملی۔
2
अहवाल ख़ुश उन्हों का हम-बज़्म हैं जो तेरे
अफ़्सोस है कि हम ने वाँ का न बार पाया
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
احوال خوش اُنھوں کا ہم-بزم ہیں جو تیرے؛ افسوس ہے کہ میں نے وہاں کا نہ بار پایا۔
3
जीते जो ज़ोफ़ हो कर ज़ख़्म-रसा से उस के
सीने को चाक देखा दिल को फ़िगार पाया
جیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے
سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
جس شخص کو زخم-رش سے شفا ملی، اس نے اس کے سینے میں آئینہ دیکھا؛ اور اس کے دل میں محبوب کو پایا۔
4
शहर-ए-दिल एक मुद्दत उजड़ा बसा ग़मों में
आख़िर उजाड़ देना उस का क़रार पाया
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں
آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
دل کا شہر ایک مدت تک غموں میں ویران رہا؛ آخر کار اسے उजाड़ دینے کے بعد ہی سکون ملا۔
5
इतना न तुझ से मिलते ने दिल को खो के रोते
जैसा किया था हम ने वैसा ही यार पाया
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے
جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے، جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا۔
6
क्या ए'तिबार याँ का फिर उस को ख़्वार देखा
जिस ने जहाँ में आ कर कुछ ए'तिबार पाया
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا
جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
ایک عارضی لمحے یا ایک جھلک کی کیا قدر، اس شخص کے لیے جو اس دنیا میں کچھ مستقل پایا ہو۔
7
आहों के शोले जिस जा उठते थे 'मीर' से शब
वाँ जा के सुब्ह देखा मुश्त-ए-ग़ुबार पाया
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب
واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
آہوں کے شعلے جو مجھ سے رات میں اٹھتے تھے، صبح جا کے مٹی کا گچھا پائے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
