غزل

किया मैं ने रो कर फ़िशार-ए-गरेबाँ

किया मैं ने रो कर फ़िशार-ए-गरेबाँ
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل جدائی اور تنہائی کے گہرے درد کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے ٹوٹے اور تنہائی سے بھرے دل کا بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی قربت اور محبت کی یادوں میں کھویا ہوا ہے، اور بار بار اس درد کو محسوس کرتا ہے جو فاصلوں نے پیدا کیا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
किया मैं ने रो कर फ़िशार-ए-गरेबाँ रग-ए-अब्र था तार-तार-ए-गरेबाँ
کیا میں نے رو کر فشار گریباں رگ ابر تھا تار تار گریباں
رو کر میں نے پردیسی کے دل کا دباؤ (فشار) توڑا، اور پردیسی کے خُوشگوار خیال سے بادل کی رگ تار تار ہو گئی۔
2
कहीं दस्त-ए-चालाक नाख़ुन न लागे कि सीना है क़ुर्ब-ओ-जवार-ए-गरेबाँ
کہیں دست چالاک ناخن نہ لاگے کہ سینہ ہے قرب و جوار گریباں
کہیں دستِ چلاق ناخن نہ لگے، کہ سینہ ہے قرب و جوارِ گرباں کا۔
3
निशाँ अश्क-ए-ख़ूनीं के उड़ते चले हैं ख़िज़ाँ हो चली है बहार-ए-गरेबाँ
نشاں اشک خونیں کے اڑتے چلے ہیں خزاں ہو چلی ہے بہار گریباں
خون کے آنسوؤں کے نشان اڑتے چلے گئے ہیں، اور جہاں کبھی بہار تھی، وہ خزاں ہو چکی ہے۔
4
जुनूँ तेरी मिन्नत है मुझ पर कि तू ने न रक्खा मिरे सर पे बार-ए-गरेबाँ
جنوں تیری منت ہے مجھ پر کہ تو نے نہ رکھا مرے سر پہ بار گریباں
تیرے جنون اور منّت پر میرا اتنا بھروسہ ہے کہ تُو نے میرے سر پر اجنبیوں کا بوجھ نہیں ڈالا۔
5
ज़ियारत करूँ दिल से ख़स्ता-जिगर की कहाँ होगी यारब मज़ार-ए-गरेबाँ
زیارت کروں دل سے خستہ جگر کی کہاں ہوگی یا رب مزار گریباں
دل سے خستہ-جگر کی زیارت کروں، کہاں ہوگی یارب مزارِ گریباں۔
6
कहीं जाए ये दौर-ए-दामन भी जल्दी कि आख़िर हुआ रोज़गार-ए-गरेबाँ
کہیں جائے یہ دور دامن بھی جلدی کہ آخر ہوا روزگار گریباں
شاعر کہتا ہے کہ یہ دورِ صحبت بھی جلدی گزر جائے گا، کیونکہ آخر کار غیر میں روزگار شروع ہو گیا ہے۔
7
फिरूँ 'मीर' उर्यां न दामन का ग़म हो न बाक़ी रहे ख़ार-ख़ार-ए-गरेबाँ
پھروں میرؔ عریاں نہ دامن کا غم ہو نہ باقی رہے خار خار گریباں
اے میر، عریٰن دامن کا غم نہ ہو، اور نہ باقی رہیں گرباں کی خار-خار۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.