کیا میں نے رو کر فشار گریباں — میر تقی میر

کیا میں نے رو کر فشار گریباں رگ ابر تھا تار تار گریباں

“Having cried, I broke the spring of the stranger's heart, The vein of the cloud was ripped by the stranger's whim.”

— میر تقی میر

معنی

رو کر میں نے پردیسی کے دل کا دباؤ (فشار) توڑا، اور پردیسی کے خُوشگوار خیال سے بادل کی رگ تار تار ہو گئی۔

تشریح

یہ شعر غربت اور تنہائی کے گہرے درد کو بیان کرتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ میرے رोने سے میرے پردیسی وجود کا راستہ ہی ٹوٹ گیا، یعنی دل کا زخم اتنا شدید تھا کہ وہ ہر طرف ظاہر ہو گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.