غزل
जो तू ही सनम हम से बे-ज़ार होगा
जो तू ही सनम हम से बे-ज़ार होगा
یہ غزل ایک عاشق کی وِصال کی درد بھری کیفیت کو بیان کرتی ہے، جو کہتا ہے کہ اگر محبوب اس سے بیزار ہو جائے گا تو اس کے لیے جینا مشکل ہو جائے گا۔ اس میں عشق کے حد سے زیادہ ہونے اور جدائی کے دکھ کا ذکر ہے، جہاں محبوب کے رویے دل کو اذیت دیتے ہیں اور عشق کا یہ حد سے زیادہ ہونا عاشق کو ہمیشہ بیمار رکھے گا۔
نغمہ سنیں
1
जो तू ही सनम हम से बे-ज़ार होगा
तो जीना हमें अपना दुश्वार होगा
جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا
تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہوگا
اگر تم، اے محبوب، ہم سے بیزار ہو جاؤ گے، تو ہمارے لیے جینا مشکل ہو جائے گا۔
2
ग़म-ए-हिज्र रक्खेगा बे-ताब दिल को
हमें कुढ़ते कुढ़ते कुछ आज़ार होगा
غم ہجر رکھے گا بے تاب دل کو
ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہوگا
غمِ ہجر رکھے گا بے تاب دل کو، ہمیں کڑتے کڑتے کچھ آزار ہوگا۔
3
जो इफ़रात-ए-उल्फ़त है ऐसा तो आशिक़
कोई दिन में बरसों का बीमार होगा
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق
کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہوگا
اگر عشق کا نشہ ایسا ہے، تو عاشق کچھ ہی دن میں برسوں تک بیمار رہے گا۔
4
उचटती मुलाक़ात कब तक रहेगी
कभू तो तह-ए-दिल से भी यार होगा
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی
کبھو تو تہ دل سے بھی یار ہوگا
اچھٹتی ملاقات کب تک رہے گی، کب وہ تو تہہ دل سے بھی یار ہوگا. اس کا سادہ مطلب ہے کہ دل کی یہ ملاقات کتنی دیر رہے گی، شاید محبوب دل کی گہرائیوں میں بھی مل جائے گا۔
5
तुझे देख कर लग गया दिल न जाना
कि उस संग-दिल से हमें प्यार होगा
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا
کہ اس سنگ دل سے ہمیں پیار ہوگا
تجھے دیکھ کر میرا دل کھو گیا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں ایسے دل سے پیار کروں گا۔
6
लगा करने हिज्रान सख़्ती से सख़्ती
ख़ुदा जाने क्या आख़िर-ए-कार होगा
لگا کرنے ہجران سختی سے سختی
خدا جانے کیا آخر کار ہوگا
جدا ہونے کی سختی سے سختی کیا ہے، خدا جانے آخر کار کیا ہوگا۔
7
यही होगा क्या होगा 'मीर' ही न होंगे
जो तू होगा बे-यार ग़म-ख़्वार होगा
یہی ہوگا کیا ہوگا میرؔ ہی نہ ہوں گے
جو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا
یہ ہی ہوگا کیا ہوگا 'میر' ہی نہ ہوں گے
جو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
