Sukhan AI
غزل

जो तू ही सनम हम से बे-ज़ार होगा

जो तू ही सनम हम से बे-ज़ार होगा
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک عاشق کی وِصال کی درد بھری کیفیت کو بیان کرتی ہے، جو کہتا ہے کہ اگر محبوب اس سے بیزار ہو جائے گا تو اس کے لیے جینا مشکل ہو جائے گا۔ اس میں عشق کے حد سے زیادہ ہونے اور جدائی کے دکھ کا ذکر ہے، جہاں محبوب کے رویے دل کو اذیت دیتے ہیں اور عشق کا یہ حد سے زیادہ ہونا عاشق کو ہمیشہ بیمار رکھے گا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जो तू ही सनम हम से बे-ज़ार होगा तो जीना हमें अपना दुश्वार होगा
اگر تم، اے محبوب، ہم سے بیزار ہو جاؤ گے، تو ہمارے لیے جینا مشکل ہو جائے گا۔
3
जो इफ़रात-ए-उल्फ़त है ऐसा तो आशिक़ कोई दिन में बरसों का बीमार होगा
اگر عشق کا نشہ ایسا ہے، تو عاشق کچھ ہی دن میں برسوں تک بیمار رہے گا۔
4
उचटती मुलाक़ात कब तक रहेगी कभू तो तह-ए-दिल से भी यार होगा
اچھٹتی ملاقات کب تک رہے گی، کب وہ تو تہہ دل سے بھی یار ہوگا. اس کا سادہ مطلب ہے کہ دل کی یہ ملاقات کتنی دیر رہے گی، شاید محبوب دل کی گہرائیوں میں بھی مل جائے گا۔
5
तुझे देख कर लग गया दिल न जाना कि उस संग-दिल से हमें प्यार होगा
تجھے دیکھ کر میرا دل کھو گیا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں ایسے دل سے پیار کروں گا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.