Sukhan AI
غزل

जो कहो तुम सो है बजा साहब

जो कहो तुम सो है बजा साहब
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل زندگی کے تجربات اور رشتوں کی پیچیدگیوں پر ایک تنقیدی کلام ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ بیرونی ظاہری حالت اور تصورات کے باوجود، ہمارا اندرونی تجربہ ہی حقیقت ہے۔ شاعر خدا سے بھی رحم اور کرم کا احساس دلانے کی دعا کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जो कहो तुम सो है बजा साहब हम बुरे ही सही भला साहब
جو کہو تم سو ہے سچ، صاحب۔ ہم بُرے ہی سہی، پر یہ اچھا ہے، صاحب۔
3
न दिया रहम टुक बुतों के तईं क्या किया हाए ये ख़ुदा साहब
نہ دیا رحم ٹک بوٹوں کے تئیں، کیا کیا ہے یہ خدا صاحب۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے غریبوں پر رحم کیوں نہیں کیا؟ یہ خدا نے کیا کیا۔
4
बंदगी एक अपनी क्या कम है और कुछ तुम से कहिए क्या साहब
میری اپنی بندگی میں کیا کمی ہے، اور صاحب، آپ مجھ سے اور کیا کہلوانا چاہتے ہیں؟
5
मेहर-अफ़ज़ा है मुँह तुम्हारा ही कुछ ग़ज़ब तो नहीं हुआ साहब
آپ کا چہرہ ایک نشہ آور لذت ہے، کیا صاحب کے ساتھ کچھ شاندار ہوا ہے؟
6
ख़त के फटने का तुम से क्या शिकवा अपने तालेअ' का ये लिखा साहब
خط کے پھٹنے کا تم سے کیا شکوہ، یہ تو اپنے تالےع کا ہے لکھا صاحب۔
7
फिर गईं आँखें तुम न आन फिरे देखा तुम को भी वाह-वा साहब
تمہاری آنکھیں جو جا گئیں، وہ تمہارے پاس واپس نہیں آئیں گی۔ اوہ، آپ کو دیکھ کر میں نے کہا، 'واہ-واہ، صاحب!'
9
भूल जाना नहीं ग़ुलाम का ख़ूब याद ख़ातिर रहे मिरा साहब
میرے آقا، آپ میرے غلام کے حسن کو نہیں بھولا، کیونکہ میں آپ کی یادوں میں زندہ ہوں۔
10
किन ने सुन शेर-ए-'मीर' ये न कहा कहियो फिर हाए क्या कहा साहब
کس نے سن شیرؔ اِمیر یہ نہ کہا۔ کہیے پھر ہائے کیا کہا صاحب، کیا کہا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

जो कहो तुम सो है बजा साहब | Sukhan AI