غزل
जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा
जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा
یہ غزل زندگی کے شور اور مسلسل جذباتی ہلچل میں کھو رہنے کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر 'میر' کا کہنا ہے کہ جو شخص اس شور سے روتا رہے گا، وہ کبھی پرسکون نہیں ہوگا۔ یہ نظم بتاتی ہے کہ کبھی کبھی جذبات کو ظاہر کرنے کے بجائے، انہیں سنبھالنا اور آگے بڑھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा
तो हम-साया काहे को सोता रहेगा
اگر 'میر' اس شور سے روتا رہے گا، تو ہم-ساایا کو کیوں سوتا رہے گا۔
2
मैं वो रोने वाला जहाँ से चला हूँ
जिसे अब्र हर साल रोता रहेगा
میں وہ جگہ ہوں جہاں سے آنسوؤں کا بہاؤ شروع ہوا، جسے بادل ہر سال روتے رہیں گے۔
3
मुझे काम रोने से अक्सर है नासेह
तू कब तक मिरे मुँह को धोता रहेगा
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصیہ،
تُو کب تک میرے مُنہ کو دھوتا رہے گا؟
4
बस ऐ गिर्या आँखें तिरी क्या नहीं हैं
कहाँ तक जहाँ को डुबोता रहेगा
اے پہاڑ، تیرے آنکھیں کیا نہیں ہیں؟ کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا؟
5
मिरे दिल ने वो नाला पैदा किया है
जरस के भी जो होश खोता रहेगा
میرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے، کہ جرس کے بھی ہوش کھوتے رہیں گے۔
6
तू यूँ गालियाँ ग़ैर को शौक़ से दे
हमें कुछ कहेगा तो होता रहेगा
اگر تم یوں ہی اجنبیوں کو شوق سے گالیاں دیتے رہو گے، تو جب وہ ہمیں کچھ کہیں گے، تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
7
बस ऐ 'मीर' मिज़्गाँ से पोंछ आँसुओं को
तू कब तक ये मोती पिरोता रहेगा
بس اے 'میر'، مِزگاں سے آنسوؤں کو پونچھ دے، تُو کب تک یہ موتی چنیاں گا کرے گا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
