غزل

जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा

जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل زندگی کے شور اور مسلسل جذباتی ہلچل میں کھو رہنے کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر 'میر' کا کہنا ہے کہ جو شخص اس شور سے روتا رہے گا، وہ کبھی پرسکون نہیں ہوگا۔ یہ نظم بتاتی ہے کہ کبھی کبھی جذبات کو ظاہر کرنے کے بجائے، انہیں سنبھالنا اور آگے بڑھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा तो हम-साया काहे को सोता रहेगा
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
اگر 'میر' اس شور سے روتا رہے گا، تو ہم-ساایا کو کیوں سوتا رہے گا۔
2
मैं वो रोने वाला जहाँ से चला हूँ जिसे अब्र हर साल रोता रहेगा
میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوں جسے ابر ہر سال روتا رہے گا
میں وہ جگہ ہوں جہاں سے آنسوؤں کا بہاؤ شروع ہوا، جسے بادل ہر سال روتے رہیں گے۔
3
मुझे काम रोने से अक्सर है नासेह तू कब तक मिरे मुँह को धोता रहेगा
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصح تو کب تک مرے منہ کو دھوتا رہے گا
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصیہ، تُو کب تک میرے مُنہ کو دھوتا رہے گا؟
4
बस ऐ गिर्या आँखें तिरी क्या नहीं हैं कहाँ तक जहाँ को डुबोता रहेगा
بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
اے پہاڑ، تیرے آنکھیں کیا نہیں ہیں؟ کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا؟
5
मिरे दिल ने वो नाला पैदा किया है जरस के भी जो होश खोता रहेगा
مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے جرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا
میرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے، کہ جرس کے بھی ہوش کھوتے رہیں گے۔
6
तू यूँ गालियाँ ग़ैर को शौक़ से दे हमें कुछ कहेगा तो होता रहेगा
تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دے ہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا
اگر تم یوں ہی اجنبیوں کو شوق سے گالیاں دیتے رہو گے، تو جب وہ ہمیں کچھ کہیں گے، تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
7
बस ऐ 'मीर' मिज़्गाँ से पोंछ आँसुओं को तू कब तक ये मोती पिरोता रहेगा
بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کو تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا
بس اے 'میر'، مِزگاں سے آنسوؤں کو پونچھ دے، تُو کب تک یہ موتی چنیاں گا کرے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

जो इस शोर से 'मीर' रोता रहेगा | Sukhan AI