Sukhan AI
غزل

इश्क़ क्या क्या आफ़तें लाता रहा

इश्क़ क्या क्या आफ़तें लाता रहा
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق کے دردناک اور اذیت ناک پہلوؤں کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تمام دنیا کی رونقیں اور حسن بھی ایک چہرے کے مقابلے میں بے معنی ہیں، اور وہ ہر حال میں صرف اسی چہرے کی طرف کھنچا چلا گیا۔ یہ وہ عشق ہے جو جدائی میں بھی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے، اور ایک ایسا جنون ہے جسے وہ بار بار پانا چاہتا ہے، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इश्क़ क्या क्या आफ़तें लाता रहा आख़िर अब दूरी में जी जाता रहा
محبت نے کیا کیا مصیبتیں دیں، کہ آخر میں تو میں جدائی میں ہی جیتا رہا۔
2
मेहर ओ मह गुल फूल सब थे पर हमें चेहरई चेहरा ही वो भाता रहा
مہربانی، مہک، گل اور پھول سب تھے، پر ہمیں تو بس اُس کا چہرہ ہی بھاتا رہا۔
4
मुँह दिखाता बरसों वो ख़ुश-रू नहीं चाह का यूँ कब तलक नाता रहा
बरसों से उसका चेहरा दिखता रहा, मगर वह महबूब नहीं है; یہ چاہ کا رشتہ اور کب تک قائم رہے گا؟
5
कुछ न मैं समझा जुनून ओ इश्क़ में देर नासेह मुझ को समझाता रहा
میں جنون و عشق کو سمجھ نہ سکا، تم نے مجھے دیر تک سمجھاتا رہا۔
7
कैसे कैसे रुक गए हैं 'मीर' हम मुद्दतों मुँह तक जिगर आता रहा
شعر میں شاعر یہ پوچھ رہا ہے کہ وہ کس طرح رک گئے ہیں، جبکہ اس کا دل کا جذبہ یا یاد کئی ادوار سے اس کے ہونٹوں تک آ رہا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

इश्क़ क्या क्या आफ़तें लाता रहा | Sukhan AI