मेहर ओ मह गुल फूल सब थे पर हमें
चेहरई चेहरा ही वो भाता रहा
“All the beauty, the roses, the flowers, they were there, but to us, only that face remained pleasing.”
— میر تقی میر
معنی
مہربانی، مہک، گل اور پھول سب تھے، پر ہمیں تو بس اُس کا چہرہ ہی بھاتا رہا۔
تشریح
شعر کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا کی ہر خوبصورتی، ہر خوشبو، ہر پھول موجود تھا، مگر ہمارے دل کو تو صرف محبوب کا چہرہ ہی بھاتا رہا۔ یہ ایک ایسی محبت کی عکاسی ہے جو تمام حُسن سے بالاتر ہوتی ہے، صرف ایک نظر پر مرکوز ہوتی ہے۔
