غزل

इस अहद में इलाही मोहब्बत को क्या हुआ

इस अहद में इलाही मोहब्बत को क्या हुआ
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل پوچھتی ہے کہ اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا ہے۔ شاعر نے وفاداری اور عہدیات کے بکھر جانے پر سوال اٹھایا ہے، اور زندگی کے جذباتی تعلقات کی عدم یقینی صورتحال کو پیش کیا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
इस अहद में इलाही मोहब्बत को क्या हुआ छोड़ा वफ़ा को उन ने मुरव्वत को क्या हुआ
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
اس عہد میں، الٰہی محبت کو کیا ہوا؟ انہوں نے وفا اور مرُوّت کو کیا ہوا؟
2
उम्मीद-वार-ए-वादा-ए-दीदार मर चले आते ही आते यारो क़यामत को क्या हुआ
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
امیدوں اور وعدےِ دیدار کے پھول مر گئے؛ یارو، جب تم آتے ہو، تو کیا ہوا قیامت کو؟
3
कब तक तज़ल्लुम आह भला मर्ग के तईं कुछ पेश आया वाक़िआ' रहमत को क्या हुआ
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
کب تک یہ ظلم رہے گا، اے محبوبِ مَرج؟ کیا کوئی واقعہ پیش آیا، یا رحمت کو کیا ہوا؟
4
उस के गए पर ऐसे गए दिल से हम-नशीं मालूम भी हुआ न कि ताक़त को क्या हुआ
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم-نشیں، معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا।
5
बख़्शिश ने मुझ को अब्र-ए-करम की किया ख़जिल ऐ चश्म जोश-ए-अश्क-ए-नदामत को क्या हुआ
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
بخشیش نے مجھ کو ابرِ کرم کی کیا خجل، اے چشم جوشِ اشکِ ندمت کو کیا ہوا؟
6
जाता है यार तेग़-ब-कफ़ ग़ैर की तरफ़ ऐ कुश्ता-ए-सितम तिरी ग़ैरत को क्या हुआ
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
دوست، تم اپنا غصہ بے گناہ کی طرف کیوں کر رہے ہو؟ اے ظلم کے جنگ، تمہاری غیرت کا کیا ہوا؟
7
थी साब आशिक़ी की बदायत ही 'मीर' पर क्या जानिए कि हाल-ए-निहायत को क्या हुआ
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
شاعر کہتا ہے کہ عشق کی بڑھوتری پر، وہ کیا جانتا ہے کہ شدید غم کی حالت کا کیا ہوا।
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.