Sukhan AI
غزل

हस्ती अपनी हबाब की सी है

हस्ती अपनी हबाब की सी है
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل زندگی کی عارضی نوعیت اور رشتوں کی فانی کیفیت پر مبنی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ ہمارا وجود اور محبت کے جذبات دونوں ہی ایک عارضی یا خواب جیسی کیفیت ہیں۔ وہ دل کی نزاکت اور جوانی کی حالت کو بھی ایک خوبصورت مگر غیر مستحکم भ्रम سے تشبیہ دیتا ہے، جو جذباتی کیفیتوں کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
चश्म-ए-दिल खोल इस भी आलम पर याँ की औक़ात ख़्वाब की सी है
دل کا آئینہ اس جہاں پر کھول، کیونکہ عشق کا لمحہ خواب جیسا ہے۔
4
बार बार उस के दर पे जाता हूँ हालत अब इज़्तिराब की सी है
میں بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں، حالت اب اضطراب کی سی ہے۔
5
नुक़्ता-ए-ख़ाल से तिरा अबरू बैत इक इंतिख़ाब की सी है
نقطۂ خال سے تیرا ابرو ایسا ہے، جیسے کسی خاص انتخاب سے چنا گیا کوئی شعر۔
7
आतिश-ए-ग़म में दिल भुना शायद देर से बू कबाब की सी है
شاعر کہتا ہے کہ شاید میرا دل غم کی آگ میں بھنا گیا تھا، اور اس کی خوشبو کباب کی طرح بہت دیر سے آئی۔
9
'मीर' उन नीम-बाज़ आँखों में सारी मस्ती शराब की सी है
میر کی ان نیم-باز آنکھوں میں सारी مستی شراب کی سی ہے (Literal Meaning: In Mir's eyes, which are like neem-eaters, there is the intoxication of wine.)
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.