غزل
हस्ती अपनी हबाब की सी है
हस्ती अपनी हबाब की सी है
یہ غزل زندگی کی عارضی نوعیت اور رشتوں کی فانی کیفیت پر مبنی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ ہمارا وجود اور محبت کے جذبات دونوں ہی ایک عارضی یا خواب جیسی کیفیت ہیں۔ وہ دل کی نزاکت اور جوانی کی حالت کو بھی ایک خوبصورت مگر غیر مستحکم भ्रम سے تشبیہ دیتا ہے، جو جذباتی کیفیتوں کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
नाज़ुकी उस के लब की क्या कहिए
पंखुड़ी इक गुलाब की सी है
نازکی اُس کے لب کی کیا کہیے، پُتلی اک گلاب کی سی ہے۔
3
चश्म-ए-दिल खोल इस भी आलम पर
याँ की औक़ात ख़्वाब की सी है
دل کا آئینہ اس جہاں پر کھول، کیونکہ عشق کا لمحہ خواب جیسا ہے۔
4
बार बार उस के दर पे जाता हूँ
हालत अब इज़्तिराब की सी है
میں بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں، حالت اب اضطراب کی سی ہے۔
5
नुक़्ता-ए-ख़ाल से तिरा अबरू
बैत इक इंतिख़ाब की सी है
نقطۂ خال سے تیرا ابرو ایسا ہے، جیسے کسی خاص انتخاب سے چنا گیا کوئی شعر۔
6
मैं जो बोला कहा कि ये आवाज़
उसी ख़ाना-ख़राब की सी है
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز اُسی خانہ-خراب کی سی ہے۔
7
आतिश-ए-ग़म में दिल भुना शायद
देर से बू कबाब की सी है
شاعر کہتا ہے کہ شاید میرا دل غم کی آگ میں بھنا گیا تھا، اور اس کی خوشبو کباب کی طرح بہت دیر سے آئی۔
8
देखिए अब्र की तरह अब के
मेरी चश्म-ए-पुर-आब की सी है
دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشمِ پورآب کی سی ہے۔
9
'मीर' उन नीम-बाज़ आँखों में
सारी मस्ती शराब की सी है
میر کی ان نیم-باز آنکھوں میں
सारी مستی شراب کی سی ہے
(Literal Meaning: In Mir's eyes, which are like neem-eaters, there is the intoxication of wine.)
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
