Sukhan AI
غزل

गुल को महबूब हम-क़्यास किया

गुल को महबूब हम-क़्यास किया
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل محبت کی گہری اور پیچیدہ نوعیت کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کی خوبصورتی اور عاشق کی جذباتی حالت کے درمیان فرق کو محسوس کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے اسے ایک ایسے آئینہ کی طرح دیکھا ہے جو پورے عالم کا منظر دکھاتا ہے، اور عشق نے اسے بے خود کر دیا ہے۔ یہ مجموعی طور پر عشق میں دیوانگی اور جذبے کے نام پر اپنی عزت کو داؤ پر لگانے کے حوصلے کی بات کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गुल को महबूब हम-क़्यास किया फ़र्क़ निकला बहुत जो पास किया
شاعر کہتے ہیں کہ انہوں نے گل کا م محبوب سے موازنہ کیا، اور پایا کہ قریب ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔
2
दिल ने हम को मिसाल-ए-आईना एक आलम का रू-शनास किया
دل نے مجھے ایک آئینہ سمجھا اور ایک پورے عالم کا چہرہ ظاہر کر دیا۔
3
कुछ नहीं सूझता हमें उस बिन शौक़ ने हम को बे-हवास किया
ہمیں تمہارے بغیر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا، تمہارے شوق نے ہمیں دیوانہ کر دیا ہے۔
4
इश्क़ में हम हुए न दीवाने क़ैस की आबरू का पास किया
شاعر کا اشارہ ہے کہ وہ عشق میں دیوانہ نہیں ہوا، بلکہ صرف قیس کی آبرو سے کھیل رہا تھا۔
7
तुझ से क्या क्या तवक्क़ोएँ थीं हमें सो तिरे ज़ुल्म ने निरास किया
تمہاری مجھ سے کیا کیا توقعات تھیں، تمہاری ظلم و ستم نے انہیں سب بے اثر کر دیا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.