غزل
गुल को महबूब हम-क़्यास किया
गुल को महबूब हम-क़्यास किया
یہ غزل محبت کی گہری اور پیچیدہ نوعیت کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کی خوبصورتی اور عاشق کی جذباتی حالت کے درمیان فرق کو محسوس کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے اسے ایک ایسے آئینہ کی طرح دیکھا ہے جو پورے عالم کا منظر دکھاتا ہے، اور عشق نے اسے بے خود کر دیا ہے۔ یہ مجموعی طور پر عشق میں دیوانگی اور جذبے کے نام پر اپنی عزت کو داؤ پر لگانے کے حوصلے کی بات کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गुल को महबूब हम-क़्यास किया
फ़र्क़ निकला बहुत जो पास किया
شاعر کہتے ہیں کہ انہوں نے گل کا م محبوب سے موازنہ کیا، اور پایا کہ قریب ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔
2
दिल ने हम को मिसाल-ए-आईना
एक आलम का रू-शनास किया
دل نے مجھے ایک آئینہ سمجھا اور ایک پورے عالم کا چہرہ ظاہر کر دیا۔
3
कुछ नहीं सूझता हमें उस बिन
शौक़ ने हम को बे-हवास किया
ہمیں تمہارے بغیر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا، تمہارے شوق نے ہمیں دیوانہ کر دیا ہے۔
4
इश्क़ में हम हुए न दीवाने
क़ैस की आबरू का पास किया
شاعر کا اشارہ ہے کہ وہ عشق میں دیوانہ نہیں ہوا، بلکہ صرف قیس کی آبرو سے کھیل رہا تھا۔
5
दौर से चर्ख़ के निकल न सके
ज़ोफ़ ने हम को मूरतास किया
دَور سے چرخ کے نکل نہ سکے، جوف نے ہم کو مورتاس کیا۔
6
सुब्ह तक शम्अ' सर को धुनती रही
क्या पतिंगे ने इल्तिमास किया
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی، کیا پتی نے التماس کیا۔
7
तुझ से क्या क्या तवक्क़ोएँ थीं हमें
सो तिरे ज़ुल्म ने निरास किया
تمہاری مجھ سے کیا کیا توقعات تھیں، تمہاری ظلم و ستم نے انہیں سب بے اثر کر دیا۔
8
ऐसे वहशी कहाँ हैं ऐ ख़ूबाँ
'मीर' को तुम अबस उदास किया
اے وہشی کہاں ہیں اے خوباں۔ 'میر' کو تم ابس اداس کیا।
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
